
میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے اس کو غصے میں دو مرتبہ یہ جملہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، اس کے ایک ہفتے بعد میں نے یہ کہہ کر رجوع کر لیا: میں رجوع کرتا ہوں۔
اس کے بعد سے وہ تیسری طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی تو میں نے اس کو یہ کہا:
اگر زندگی بسانی ہے تو کال کرنا اور اگر طلاق سمجھ کر بیٹھنا ہے تو تمہاری اپنی مرضی ہے۔
اس جملے سے میں نے کسی طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا، کیا میرا نکاح ابھی برقرار ہے یا ختم ہو چکا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے اپنی بیوی کے مطالبہ پر دو مرتبہ طلاق دی تھی اس سے دو طلاقیں واقع ہو گئی تھیں اور رجوع بھی درست ہو گیا تھا، پھر جب آپ نے یہ الفاظ کہے:
"اگر زندگی بسانی ہے تو کال کرنا اور اگر طلاق سمجھ کر بیٹھنا ہے تو تمہاری اپنی مرضی ہے۔"
ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا سابقہ دو طلاقوں کے علاوہ اگر مزید کوئی طلاق نہیں دی تو مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں، آپ دونوں کا نکاح برقرار ہے، ساتھ رہنا جائز ہے، لیکن آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے، ایک طلاق دینے سے مکمل نکاح ختم ہو جائے گا، اس لیے الفاظ کی ادائیگی میں خوب احتیاط کریں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"امرأة قالت لزوجها: " مرا طلاق ده " فقال الزوج: " داده كيرو كرده كير " أو قال " داده باد وكرده بادان نوى " يقع ويكون رجعيا وإن لم ينو لا يقع."
(کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ، الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیة ، ج 1 ، ص 380 ، ط : ماجدیة)
فتاوى قاضي خان میں ہے:
"ولو قال الزوج داده انكار أو قال كرده انكار لا يقع الطلاق وان نوى كأنه قال لها بالعربية احسبي أنك طالق وان قال ذلك لا يقع۔"
(کتاب الطلاق ، ج : 2 ، ص : 210 ، ط : حافظ کتب خانه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101627
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن