
میری جائیداد ہے، اور میری بیوی اور اولاد بھی ہے، میں اپنی بیوی کو کچھ سونے کے زیورات اور کچھ نقد رقم دینا چاہتا ہوں، اور اپنی زندگی ہی میں یہ چیزیں ان کے حوالے کرنا چاہتا ہوں، جب کہ ان کے علاوہ میری اور بھی جائیداد موجود ہے، تو کیا میرے لیے اس طرح کرنا جائز ہے، اور کیا میں اپنی بیوی کو یہ چیزیں دے سکتا ہوں، جبکہ میں اپنی جائیداد کی باقاعدہ تقسیم بھی نہیں کر رہا، کیا میری بیوی کو میرے انتقال کے بعد بھی اس جائیداد میں حصہ ملے گا، اور جو چیزیں میں اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو دے رہا ہوں، کیا وہ انہیں کسی اور کو دے سکتی ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو ضروت کی وجہ سےکچھ سونے کے زیورات اور کچھ نقد رقم دینااس وقت جائز ہےجب سائل کا مقصد دیگر ورثاء کو محروم کرنا نہ ہو، البتہ بہتر یہ ہے کہ دیگر ورثاء کو بھی کچھ دے دےتاکہ ان کی دل آزاری نہ ہو۔
سائل اپنی زندگی میں اپنی بیوی کو جو چیزیں باقاعدہ قبضہ کے ساتھ ہبہ کردےگاتو وہ شرعاً بیوی کی ملکیت بن جائیں گی، اور سائل کے انتقال کے بعد وہ چیزیں ترکہ میں شامل نہیں ہوں گی، بلکہ بیوی کو ان میں مکمل اختیار ہوگا، لہٰذا وہ ان چیزوں کو جس طرح چاہے استعمال کرے، بیچے، یا کسی اور کو دے دے، یہ سب اس کے لیے جائز ہوگا۔
البتہ سائل کے انتقال کے بعد جو جائیداد اس کی ملکیت میں باقی ہوگی، وہ شرعی وراثت کے اصولوں کے مطابق اس کے تمام ورثاءکے درمیان بشمول بیوی کےتقسیم ہوگی۔
جیسا کہ مشکاۃ شریف میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه"
ترجمہ: ”جو شخص اپنے وارث کی میراث روک لے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا جنت میں حصہ روک لے گا۔“
(کتاب الفرائض والوصایا، باب الوصایا، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 926، الرقم: 3078، ط: المکتب الاسلامی)
ہدایہ میں ہے:
"قال: ولا تجوز لوارثه لقوله عليه الصلاة والسلام: «إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه؛ ألا لا وصية لوارث» ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض، ففي تجويزه قطيعة الرحم."
(کتاب الوصایا،قدر الوصية، ج:13، ص:397، ط:دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
دررالحکام میں ہے:
"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره."
(الباب الرابع فی بیان المسائل التی تتعلق بمدۃ الاجارۃ، ج:1، ص:559، ط: دارالجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101134
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن