
کیا 'چھوڑ دیا' کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے؟فرض کریں کہ کسی مسئلے یا کسی بات کو ختم کرنے کے لیے شوہر بیوی سے بار بار کہہ رہا ہو کہ ایسا کرو یا ویسا کرو، اور بیوی اس بات سے جان چھڑانے ،یا اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کہہ دے:کیا آپ میرے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں؟ بس کر دیں، اب چھوڑ دیں ۔اس پر شوہر جواب میں کہہ دے: 'چھوڑ دیا' جبکہ دونوں میاں بیوی کا مقصد صرف اسی مسئلے کو ختم کرنا ہو، نہ کہ ایک دوسرے کو چھوڑنے کی بات، اور اس گفتگو سے پہلے یا دوران میں طلاق کا کوئی ذکر بھی نہ ہو، نہ شوہر کے وہم و گمان میں ہو کہ وہ بیوی کو طلاق دے رہا ہے، اور ظاہر ہو کہ اس میں طلاق کی نیت بھی ہرگز نہ تھی تو کیا ایسے موقع پر بھی 'چھوڑ دیا' کہنا طلاق تصور ہوگا؟جبکہ یہ لفظ آج کل بہت عام انداز میں مختلف مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔
’میں نے تجھے چھوڑ دیا‘ کا جملہ عرف میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اگر شوہر یہ جملہ مطلقاً کہے، تو نیت کے بغیر بھی ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جاتی ہے۔البتہ اگر شوہر یہ جملہ کسی خاص معاملے کے متعلق کہے، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔مثلاً: بیوی کسی گھریلو کام کے بارے میں کچھ کہے اور شوہر اس پر ناراض ہو، تو بیوی اس بحث یا معاملے کو ختم کرنے کے لیے کہے: ’کیا آپ میرے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں؟ بس کریں، اب چھوڑ دیں۔اس پر شوہر جواب میں کہے: ’چھوڑ دیا‘ تو ایسی صورت میں یہ واضح قرینہ ہے کہ یہ جملہ طلاق کے لیے نہیں بلکہ اسی مخصوص بات یا معاملے کے چھوڑنے کے لیے ہوگا، لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
رد المحتار میں ہے:
"بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري ... فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق."
(کتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:3،ص:299،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102027
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن