
میں نومسلم ہوں۔ میں نے ایک مسلمان لڑکی سے نکاح کیا۔ نکاح کے چند ماہ بعد میری بیوی کو حمل ٹھہر گیا۔ چونکہ میں نومسلم ہوں، اس لیے میرا ختنہ نہیں ہوا۔ اب میری بیوی کے گھر والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اولاد ناجائز ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ اگر شوہر غیر مختون ہو تو کیا اس سے پیدا ہونے والی اولاد جائز ہوگی یا ناجائز؟
صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح شرعی طریقے سے، ایجاب و قبول اور گواہوں کی موجودگی میں درست طور پر منعقد ہوا ہو، تو شوہر کا غیر مختون ہونا نہ نکاح کی صحت پر اثر انداز ہوگا اور نہ اولاد کے ثابت النسب ہونے پر۔
لہٰذا ایسے نکاح کے بعد پیدا ہونے والی اولاد شرعاً جائز اور حلال النسب شمار ہوگی۔ شوہر کے محض غیر مختون ہونے کی وجہ سے اولاد کے نسب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پس بیوی کے گھر والوں کا یہ کہنا کہ اولاد ناجائز ہوگی، شرعاً درست نہیں۔
تاہم ختنہ چونکہ ایک مسنون عمل اور امورِ فطرت میں سے ہے؛ اس لیے جو شخص بلوغت کے بعد اسلام قبول کرے، تب بھی اسے ختنہ کروا لینا چاہیے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها ثبوت النسب، وإن كان ذلك حكم الدخول حقيقة لكن سببه الظاهر هو النكاح لكون الدخول أمرا باطنا، فيقام النكاح مقامه في إثبات النسب، ولهذا قال النبي: صلى الله عليه وسلم «الولد للفراش، وللعاهر الحجر» وكذا لو تزوج المشرقي بمغربية، فجاءت بولد يثبت النسب، وإن لم يوجد الدخول حقيقة لوجود سببه، وهو النكاح."
(كتاب النكاح، فصل ثبوت النسب، ج:2، ص:331، ط:ایج ایم سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وقيل: إن الاختتان ليس بضرورة، لأنه يمكن أن يتزوج امرأة أو يشتري أمة تختنه إن لم يمكنه أن يختن نفسه كما سيأتي. وذكر في الهداية الخافضة أيضا لأن الختان سنة للرجال من جملة الفطرة لا يمكن تركها وهي مكرمة في حق النساء أيضا كما في الكفاية."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج:6، ص:271، ط:ايج ايم سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101840
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن