
زید کے بھائی کی شادی تھی،تو زید نے اپنی ماں کو کہا کہ’’ اگر شادی کی تاریخ تبدیل کرکے میری مرضی کے مطابق نہ رکھی،تو شادی میں میری بیوی بچے اور میں نہیں بیٹھوں گا اور اگر بیٹھ گیا،تو میری بیوی مجھ پر طلاق‘‘،بعد میں تاریخ تبدیل ہوگئی اور زید اس تاریخ پر راضی تھا،تو کیا اب شادی میں بیٹھنے سے زید اور بیوی میں طلاق ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں جب اس شخص نے اپنی ماں کو کہاکہ’’اگر شادی کی تاریخ تبدیل کرکے میری مرضی کے مطابق نہ رکھی،تو شادی میں میری بیوی بچے اور میں نہیں بیٹھوں گا اور اگر بیٹھ گیا،تو میری بیوی مجھ پر طلاق‘‘اور اس کے بعد تاریخ بھی تبدیل کردی گئی اور اس شخص کی مرضی کے مطابق کردی گئی،تو اس کے بعد اس شخص کی قسم پوری ہوگئی،لہذا اس کے بعد اگر وہ خودیا اس کے بچے اور بیوی اس شادی میں شرکت کرتے ہیں،تو اس سے اس شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
فتح القدیر میں ہے:
"(وألفاظ الشرط إن وإذا وإذا ما كل وكلما ومتى ومتى ما)۔۔۔(ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت وانتهت اليمين) لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة، فبوجود الفعل مرة يتم الشرط ولا بقاء لليمين بدونه."
(کتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، ج:4، ص:114، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100182
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن