بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر قرضے میں سونا لیا ہو، تو واپسی سونے کی صورت میں ہی لازم ہے۔


سوال

آج سے تقریبا آٹھ سال پہلے میری ساس اور سسر نے میری اہلیہ سے ان کا حق مہر کا سونا جو زیور کی شکل میں تھا، تین مہینے بعد سِکے کی شکل میں واپسی کا کہہ کر قرض لیا تھا، لیکن کسی وجہ سے وہ مقررہ وقت پر لوٹانے سے عاجز رہے، بعد ازاں آج سے تقریباً تین سال  پہلے میری اہلیہ کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں شوہر، والدہ، والد، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ 

مرحومہ کے ترکہ میں صرف یہی سوا تولہ سونا ہے، جو ان کے والدین کو قرض دیا تھا۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ:

1۔ جو سونا میری اہلیہ سے ان کے والدین نے قرض لیا تھا، اب اس سونے کا کون حقدار ہے؟

2۔ اور وہ سونا کس صورت میں واپس لوٹانا ضروری ہے، سونے کی شکل میں یا رقم کی شکل میں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب سائل کی مرحومہ اہلیہ سے ان کے والدین نے سونے کے زیورات اس شرط پر قرض لیے تھے کہ وہ سونے کے سِکوں کی شکل میں یہ قرض واپس لوٹائیں گے، تو اب ان پر اتنی ہی مقدار سونا مرحومہ کے ترکہ میں واپس کرنا ضروری ہے اور یہ سونا مرحومہ کے تمام ورثاء بشمول شوہر، والدین اور اولاد کے درمیان ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فإذا ‌استقرض ‌مائة دينار من نوع فلا بد أن يوفي بدلها مائة من نوعها الموافق لها في الوزن أو يوفي بدلها وزنا لا عددا."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:177، ط:دار الفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں