بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر قرض پینتیس سال تاخیر سے ادا کیا جائے، تو کتنی رقم دینا لازم ہوگا؟


سوال

آج سے تقریباً پینتیس سال قبل میں نے ایک تعمیر شدہ آدھا پلاٹ ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے میں خریدا تھا، اور اس کے برابر میں میرے بھائی نے ایک خالی پلاٹ دو لاکھ چالیس ہزار روپے میں خریدا تھا۔ بعد میں، میں نے اور میرے بھائی نے آپس میں پلاٹوں کا تبادلہ کیا، چنانچہ اس نے مجھے اپنا پلاٹ دیا، اور اس کے بدلے میں میں نے اپنا پلاٹ دیا اور اسی ہزار روپے نقد دینا طے پایا، لیکن مجبوری کے باعث میں وہ رقم اب تک ادا نہ کر سکا۔ اب میں خوشی سے وہ رقم اپنے بھائی کو ادا کرنا چاہتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت یعنی 2025 میں میں اپنے بھائی کو کتنی رقم ادا کرنے کا پابند ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل اپنے بھائی کو صرف اسی ہزار روپے ادا کرنے کا پابند ہے۔ تاہم اگر سائل کا بھائی اضافی رقم کا مطالبہ نہ کرے، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اپنی رضامندی سے حسنِ قضا کے طور پر اپنے بھائی کو مزید رقم دینا بھی جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"(سئل) فيما إذا استدان زيد من عمرو مبلغا معلوما من المصاري المعلومة العيار على سبيل القرض ثم رخصت المصاري ولم ينقطع مثلها وقد تصرف زيد بمصاري القرض ويريد رد مثلها فهل له ذلك؟ (الجواب) : الديون تقضى بأمثالها."

(كتاب البيوع، باب الصرف، ج:1، ص:281، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز...؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا»... هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء» .«وقال النبي عليه الصلاة والسلام عند قضاء دين لزمه - للوازن: زن، وأرجح» ."

(كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100513

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں