
اگر زندگی میں میرے ذمہ کسی کا قرض ہو ،اور وہ مجھے دینا یاد ہی نہ رہا ہو ،جیسا کہ زمانہ طالب علمی میں طلبہ کرایہ نہیں دیتے،یادوستوں کی محفل میں کبھی کسی جگہ کھایا پیا مگر محفل میں اکڑ گئے، کہ میں نہیں دیتا ،تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اوروہ اب کیسے اداہو گا؟
دوسرا سوال یہ ہے کی ایک شخص کسی کے ساتھ بات کرتے ، کسی اور انسان پربہتان باندھتا ہے، مگر کچھ عرصہ کے بعد اسی شخص کے سامنے جس کے سامنےبہتان باندھا، یہ اقرارکر لیتا ہے کہ میں نے ایسے ہی یہ بات کی تھی وہ شخص میرے اس بہتان سے پاک ہے جو الزام میں نے لگایا ہے، وہ انتہائی پاک باز انسان ہے تو ایسے میں شریعت کا کیا حکم ہو گا؟
واضح رہےکہ از روئے شرع قرض اور ادھار لی ہوئی چیز کی واپسی کا اہتمام کرنا مقروض پر لازم ہے، قرضہ لینے کے بعد واپسی میں ٹال مٹول، سستی اور لاپرواہی کرنا سخت گناہ ہے جس سے احتراز کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے لوگوں سے واقعتاًاگر قرض لیا ہو، یا کسی گاڑی والےکو کرایہ نہ دیا ہو، تو اب یہ رقم سائل کے ذمہ لازم ہوچکی ہے، جوکہ قرض خواہوں تک پہنچانا سائل پر لازم ہے،لیکن اگر قرض خواہ اب معلوم نہ ہوں، تو حتی الامکان ان کو ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے، یا اگران کے ورثاء معلوم ہو ں تو مذکورہ رقم ان کو حوالے کی جائے، لیکن اگر کسی طرح بھی رقم ان تک پہنچانا ممکن نہ ہو،تو قرضہ کے بقدر رقم قرض خواہوں کی جانب سےصدقہ کرنا ضروری ہے، اور اگر یاد بھی نہیں ہو کہ کتنا قرض لیا تھا ، تو اتنی رقم اندازہ لگاکرصدقہ کرنا ضروری ہوگا، جس کے بارے میں یہ ظن غالب ہو کہ اس سے زیادہ رقم نہیں ہوگی ۔
نیز دوستوں کے ساتھ مشترکہ کھانے پینے کی صورت میں اگر یہ طے کردیا گیا تھا کہ پیسے سب ادا کریں گے تو ہر فرد پر اپنے حصے کے پیسے ادا کرنا لازم تھا، لیکن جب سائل نے اپنے حصے کی رقم دینے سے انکار کیا،اور سائل کی طرف سے کسی اور ساتھی نے رقم ادا کردی،تو وہ رقم دوست کی طرف سے تبرع شمار ہوگی، نہ کہ سائل کے ذمہ قرض، اور اب سائل پر شرعًا وہ رقم ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔
2:کسی پر بہتان لگانا شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام ہے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ مؤمنین اور بے گناہ مؤمنات کو زبانی ایذا دینے والوں یعنی ان پر بہتان باندھنے والوں کے عمل کو صریح گناہ قرار دیاہے۔الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے؛ لہذا اب سائل نے جس شخص کے سامنے بہتان باندھا ہے،اس کے سامنے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ صاحبِ حق سے بھی معافی مانگے،تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہوسکے۔اگر اس کا انتقال ہوگیا ہے،تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى.
(قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث. قال محمد بن الفضل: من تناول مال غيره بغير إذنه ثم رد البدل على وارثه بعد موته برئ عن الدين وبقي حق الميت لظلمه إياه، ولا يبرأ عنه إلا بالتوبة والاستغفار والدعاء له. اهـ. (قوله: فعليه التصدق بقدرها من ماله) أي الخاص به أو المتحصل من المظالم. اهـ. ط وهذا إن كان له مال. وفي الفصول العلامية: لو لم يقدر على الأداء لفقره أو لنسيانه أو لعدم قدرته قال شداد والناطفي رحمهما الله تعالى: لا يؤاخذ به في الآخرة إذا كان الدين ثمن متاع أو قرضا، وإن كان غصبا يؤاخذ به في الآخرة، وإن نسي غصبه، وإن علم الوارث دين مورثه والدين غصب أو غيره فعليه أن يقضيه من التركة، وإن لم يقض فهو مؤاخذ به في الآخرة، وإن لم يجد المديون ولا وارثه صاحب الدين ولا وارثه فتصدق المديون أو وارثه عن صاحب الدين برئ في الآخرة"
(کتاب اللقطة، مطلب فيمن عليه ديون ومظالم جهل أربابها، ج:4، ص:283، ط:ایچ ایم سعید)
مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وقد روى عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال تهادوا تحابوا وكان أكل الهدية شعاراً له، وأمارة من أماراته ووصف في الكتب المتقدمة بأنه يقبل الهدية، ولا يأكل الصدقة لأنها أوساخ الناس. وكان إذا قبل الهدية أثاب عليها لئلا يكون لأحد عليه يد، ولا يلزمه لأحد منة - انتهى. وقال البيجوري: فيسن قبول الهدية حيث لا شبهة في مال المهدي وإلا فلا يقبلها، وكذلك إذا ظن المهدي إليه إن المهدي أهداه حياء. قال الغزالي مثال من يهدي حياء من يقدم من سفره ويفرق الهدايا خوفاً من العار فلا يجوز قبول هديته إجماعاً لأنه لا يحل مال امرىء مسلم إلا عن طيب نفس، وإذا ظن المهدي إليه إن المهدي إنما أهدى له هديته لطلب المقابل فلا يجوز له قبولها إلا إذا إعطاءه ما في ظنه بالقرائن"
(کتاب الزکاۃ، باب من لاتحل لہ الصدقة، ج:6، ص:222، ط:إدارة البحوث العلمية)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقال قتادة: "إن أكلت من بيت صديقك بغير إذنه فلا بأس"، لقوله: {أو صديقكم} . وروي أن أعرابيا دخل على الحسن، فرأى سفرة معلقة فأخذها وجعل يأكل منها، فبكى الحسن، فقيل له: ما يبكيك؟ فقال: ذكرت بما صنع هذا إخوانا لي مضوا; يعني أنهم كانوا ينبسطون في مثل ذلك ولا يستأذنون. وهذا أيضا على ما كانت العادة قد جرت به منهم في مثله"
(سورۃالنور، ج:3، ص:397، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101547
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن