
1-میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے، تو ان کی پینشن جو میری نام پر جاری ہوگی، کیا اس میں سارے ورثاء کا حق ہوگا یا صرف میرا؟
2-میرے والد صاحب کو حکومت کی طرف سے ایک مکان ملا تھا، جس میں سے ایک حصہ والد صاحب کے نام کر دیا گیا تھا اور وہ حصہ والد صاحب کو تحفے میں دے دیا گیاتھا، کیونکہ حکومت ملازمین کو اس طرح دیتی ہے۔ دوسرا حصہ حکومت کا ہے، جو جب چاہے واپس لے سکتی ہے۔ بھائی اس حصے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ میرا ہوگا، اور جو حصہ حکومت کا ہے (جسے وہ کبھی واپس لے سکتی ہے) وہ آپ کا ہے،آپ اس میں رہیں ۔ کیا بھائی کا قبضہ جائز ہے یا سب ورثاء کا اس میں حق ہے؟
1-صورتِ مسئولہ میں اگر پینشن سرکاری قانون کے مطابق سائلہ کے نام پر جاری ہوتی ہے تو وہ صرف سائلہ کی ہے، دوسرے ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں۔
2 -سائلہ کے والد مرحوم کو حکومت کی طرف سے جوگھر بطور تحفہ دیا گیا تھا۔ وہ والد مرحوم کے ترکہ میں شمار ہوگا اور تمام شرعی ورثاء اپنے حصے کے مطابق اس میں شریک ہوں گے۔اور دوسراحصہ جو حکومت کا ہے اس پر اگر والد نے کچھ تعمیرات کرکےاپنے تصرف میں لیاتھاتو جب تک حکومت اپنی جگہ واپس نہیں لیتی تب تک اسے بھی ورثاء اپنے حق میراث کے تناسب سے استعمال کرسکتے ہیں کسی ایک وارث کا اس پر اضافی کوئی حق حاصل نہیں ۔ سائلہ کے بھائی کا اس پر اکیلے قبضہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس پر احادیث میں سخت وعید وارد ہوئی ہے:
: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ: جس شخص نے ناحق ایک بالشت زمین ہتھیائی، روز قیامت اتنی ہی زمین سات زمینوں سمیت طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين".
(باب الغصب والعاریة، ج: 1، ص: 254، ط: قدیمی كتب خانه)
امداد الفتاوی میں ہے:
’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کردے‘‘۔
( کتاب الفرائض،ج:4،ص:343، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100631
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن