بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

اگر نایٹ فال (احتلام/nightfall) کے بعد یہ پتہ نا چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو غسل کا کیا حکم ہو گا؟


سوال

اگر نائٹ فال (احتلام/nightfall) کے بعد یہ پتہ نا چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو غسل کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

اگراحتلام  ہونا یاد ہو اور جاگنے کے بعد یہ پتہ نہ چل رہا ہو کہ نکلنے والی چیز منی ہے یا مذی تو اس صورت میں  غسل کرنا واجب ہے۔

رد المحتار میں ہے:

"اعلم أن هذه المسألة على أربعة عشر وجها؛ لأنه إما أن يعلم أنه مني أو مذي أو ودي أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة، وعلى كل إما أن يتذكر احتلاما أو لا، فيجب الغسل اتفاقا في سبع صور منها وهي: ما إذا علم أنه مذي، أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة مع ‌تذكر ‌الاحتلام فيها."

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:163، ط:ايچ ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں