
مجھے اکثر پیشاب کے قطرے آتے ہیں ، اسی وجہ سے میں انڈرویئر بھی پہنے رکھتا ہوں ،مسئلہ یہ ہے کہ قطرہ آنے کے بعد استنجاء کی جگہ پانی نہیں بہایا اور وضو کر لیا (یہ یقین ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ قطرہ اور جگہ سوکھ چکی تھی،نیز یہ بھی یقین ہے کہ نجاست درہم سے کم ہے) کیا وضو اور نماز درست ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں اگر بدن یاکپڑےپر لگنے والی نجاست غلیظہ ہواور نجاست غلیظہ پتلی اور بہنے والی نجاست ہو، جیسے: آدمی کا پیشاب وغیرہ،تو ایسی صورتِ میں پھیلاؤ کا اعتبار ہے، لہذا اگر پھیلاؤ میں ہتھیلی کی گہرائی کے برابر ہے،اوروہ ایک درہم کی مقدار (یعنی ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے) سے کم یا ایک درہم کے برابر ہو تو اگرچہ اس مقدارمیں بھی نجاست کو دھولینا چاہیے، تاہم اگرکسی کےجسم پراس سےزیادہ ناپاکی لگی ہواوراسےعلم ہوتوناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے،لیکن اگراسےناپاکی کاعلم نہ تھااورنماز پڑھ لی توبلاکراہت نماز درست ہوگی،اوراگرایک درہم کی مقدار سے زائد ہوتو نماز نہیں ہوگی۔
پس صورت مسئولہ میں سائل نے قطرے آنے کے بعد ہی وضو کیا اور نجاست جو کپڑوں پر لگی ہے وہ درہم کی مقدار سے کم ہےتو اس صورت میں سائل کی نماز ادا ہو گئی ہے،لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"قوله: "وعفي قدر الدرهم" أي عفا الشارع عن ذلك والمراد عفا عن الفساد به وإلا فكراهة التحريم باقية إجماعا إن بلغت الدرهم وتنزيها إن لم تبلغ وفرعوا على ذلك ما لو علم قليل نجاسة عليه وهو في الصلاة ففي الدرهم يجب قطع الصلاة وغسلها ولو خاف فوت الجماعة لأنها سنة وغسل النجاسة واجب وهو مقدم وفي الثاني يكون ذلك أفضل فقط ما لم يخف فوت الجماعة بأن لا يدرك جماعة أخرى وإلا مضى على صلاته لأن الجماعة أقوى كما يمضي في المسئلتين إذا خاف فوت الوقت لأن التفويت حرام ولا مهرب من الكراهة إلى الحرام أفاده الحلبي وغيره."
(کتاب الطہارۃ ،ص:158، ط:دار الکتب العلمیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101652
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن