بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میرے خاندان میں میرا نکاح ہوا تو اسے دو طلاق کہنے کا حکم


سوال

 ایک شخص نے کہا کہ”اگر میرے خاندان میں میرا نکاح ہوا تو اسے دو طلاق”اب جس جگہ اس کا رشتہ طے ہوا ہے وہاں اس کی 3 رِشتہ داریاں ہیں:

1۔ مذکورہ شخص کی منگیتر اس کی کزن کے دیور کی بیٹی ہے۔

2۔ اس کی چچی کے بھائی کی بیٹی بھی ہے۔

3۔ اس کی پُھوپھی کے دیور کی بیٹی بھی ہے۔

اس جگہ نکاح کرنےسے طلاق ہو گی یا نہیں ؟ 

جواب

واضح رہےکہ خاندان کا اطلاق   دادا، پردادا کی اولاد   نیز والد کی اولاد یعنی بھائی بہن وغیرہ اور اپنی اولاد  پر ہوتا ہے۔لہذاصورت  مسئولہ میں مذکورہ شخص کی منگیتر  دادا یاپردادا کی اولاد میں سے ہوتو اس سے نکاح کرنے سے دو طلاقیں واقع ہوجائیں گی اوراگر منگیتر دادا یا پر دادا کی اولاد میں سے نہیں ہےتو اس  صورت میں مذکورہ جگہ رشتہ کرنے سے  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ 

التعریفات الفقہیہ میں ہے:

"أهل الديوان: هم الجيش الذين كتبت أساميهم في الديوان وهذا عند أبي حنيفة- رحمه الله تعالى-،: ‌العشيرة أي العصبة."

 (‌‌الهمزة المقصورة، أهل الديوان، ص:38، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت كالابن ثم ابنه وإن سفل."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:774، سعید) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101534

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں