
گھر میں کسی اختلاف کے موقع پر میں نے یہ کہہ دیا: اگر میری امی کے بھانجے یعنی میرے کزن میرے گھر آئے تو میرے اوپر میری دونوں بیوی طلاق، اس کے بعد میری امی کے بھانجے میرے گھر میں نہیں آئے۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ ان کو اپنے گھر آنےکی اجازت دے دی جائے تو اب سوال یہ ہے کہ اگر وہ میرے گھر میں داخل ہوئے تو میری ایک بیوی کو طلاق ہوگی، یا دونوں کو؟ کون سی طلاق ہوگی؟ رجوع کی کیا صورت ہوگی؟ اگر ان کزنوں میں سے ایک میرے گھر میں داخل ہو ، اگر طلاق واقع ہو جائے پھر رجوع سے پہلے یا رجوع کے بعد دوسرا کزن داخل ہو تو اس صورت میں دوسری طلاق توواقع نہیں ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب یہ کہا کہ: "اگر میری امی کے بھانجے یعنی میرے کزن میرے گھر آئے تو میرے اوپر میری دونوں بیوی طلاق"، تو ان الفاظ سے سائل کی دونوں بیویوں کی طلاق سائل کے کزن کے سائل کے گھر آنے پر معلق ہو گئی تھی، اب اگر سائل کا کوئی ایک کزن (امی کے بھانجے) سائل کے گھر آتے ہیں تو سائل کی دونوں بیویوں پر ایک ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی۔طلاق رجعی واقع ہونے کے بعد رجوع کر لینے سے نکاح برقرار رہے گا، لیکن آئندہ سائل صرف دو طلاقوں کا مالک رہے گا۔
ایک بار طلاق واقع ہونے کے بعد پھر کبھی سائل کے کزن گھر آئے، تو اس سے سائل کی بیویوں پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود؛ فالمحقق كإن كان السماء فوقنا تنجيز، والمستحيل كإن دخل الجمل في سم الخياط لغو وكونه متصلا إلا لعذر وأن لا يقصد به المجازاة، فلو قالت يا سفلة فقال: إن كنت كما قلت فأنت كذا تنجيز كان كذلك أو لا وذكر المشروط، فنحو أنت طالق إن لغو به يفتى ووجود رابط حيث تأخر الجزاء كما يأتي."
(كتاب الطلاق، باب التعليق، ج: 3 ص: 344 ط: ایچ ایم سعید)
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
"إذا علق الزوج الطلاق على شرط، فإنه ينحل بحصول الشرط المعلق عليه مرة واحدة، مع وقوع الطلاق به على الزوجة في هذه المرة، فإذا عادت إليه ثانية في العدة أو بعدها، لم تقع عليها به طلقة أخرى لانحلاله، هذا ما لم يكن التعليق بلفظ (كلما) ، وإلا وقع عليها به ثانية وثالثة؛ لأن كلما تفيد التكرار دون غيرها."
(حرف الطاء، أنواع الطلاق، انحلال المعلق علي شرط، ج: 29 ص: 41 ط: دار السلاسل)
فقد واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101049
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن