
کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان نظام اس مسئلہ کے بارے میں :اگر ایک شخص نے نذر مانی کہ" اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں فلاں شخص کو عمرے پر بھیجوں گا" کیا یہ نذر منعقد ہو جائے گی ؟
بعض فتاویٰ جیسے کہ دارالعلوم زکریا، امداد الفتاویٰ، اور کفایت المفتی میں لکھا ہے کہ نذر اپنے فعل کی منعقد ہوتی ہے، لہٰذا مذکورہ نذر منعقد نہ ہوگی، اور نہ ہی اس کا پورا کرنا لازم ہے، جب کہ شبیر احمد قاسمی صاحب نے امداد الفتاویٰ،کتاب النذور کے حاشیہ میں، "عنوان غیر کے فعل کی نذر صحیح نہیں ہوتی" کے تحت، البحر العمیق، فتح القدیراور المبسوط للسرخسی وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس طرح کی نذر بھی معتبر ہوتی ہے۔
براہ کرم اس مسئلہ میں صحیح اور مفتیٰ بہ قول کی وضاحت فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں راجح یہی معلوم ہوتاہے کہ کسی کو عمرہ کرانے کی نذر منعقد ہوجائے گی۔
وجوہات درج ذیل ہیں:
(1) عمرہ نیکی کے کاموں میں سے ہے، بلکہ ایک اہم اور مطلوب نیکی ہے، اور اس کے لیے انتظام کرنا اور تیاری کرنابھی نیکی میں شامل ہے۔
(2) نذر ماننے والے کا مقصد یہ ہے کہ وہ کسی مستحق شخص کو عمرہ کے سفر کی سہولتیں اور اخراجات فراہم کرنا ہے، اور اس میں اس کا اصل قصد اس کا اپناہی فعل ہے۔
(3) چوں کہ نذر عبادت کی قسم سے ہے، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اسے لازم اور منعقد مانا جائے، تاکہ آدمی ذمہ سے بری ہو جائے، کیوں کہ فراغِ ذمہ کا پہلو شغلِ ذمہ سے راجح ہوتا ہے۔
الأصل لمحمد بن الحسنؒ میں ہے:
"وإن قال إن فعلت كذا فأنا أحج بفلان فحنث فإن كان نوى فأنا أحج وهو معي فعليه أن يحج وليس عليه أن يحج به وإن كان نوى أن يحجه فعليه أن يحجه كما نوى وإن أرسله فأحجه جاز وإن أحج معه جاز وإن لم يكن له نية فعليه أن يحج هو وليس عليه أن يحجج فلانا وإن كان قال فعلي أن أحجج فلانا فعليه أن يحججه كما قال."
(كتاب المناسك، باب النذر، ج:2، ص:487، ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية بكراتشي باكستان)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"(قال): وإن قال: إن فعلت كذا فأنا أحج بفلان فحنث فإن كان نوى فأنا أحج وهو معنا فعليه أن يحج، وليس عليه أن يحج به، وإن نوى أن يحججه فعليه أن يحججه كما نوى؛ لأن الباء للإلصاق فقد ألصق فلانا بحجه، وهذا يحتمل معنيين أن يحج فلان معه في الطريق وأن يعطي فلانا ما يحج به بالمال، والتزام الأول بالنذر غير صحيح والتزام الثاني صحيح؛ لأن الحج يؤدي المال عند اليأس عن الأداء بالبدن فكان هذا في حكم البدل وحكم البدل حكم الأصل فيصح التزامه بالبدل كما يصح التزامه بالأصل فإن نوى الوجه الأول عملت نيته لاحتمال كلامه، ولكن المنوي لا يصح التزامه بالنذر فلا يلزمه به شيء، وإنما عليه أن يحج بنفسه فقط، وإن نوى الثاني فقد نوى ما يصح التزامه بالنذر فيلزمه ذلك، وإذا لزمه ذلك فإما أن يعطيه من المال ما يحج به أو يحج به مع نفسه ليحصل به الوفاء بالنذر، فإن لم يكن له نية فعليه أن يحج، وليس عليه أن يحجج فلانا؛ لأن لفظه في حق فلان محتمل والوجوب لا يحصل باللفظ المحتمل، وإن كان قال: فعلي أن أحجج فلانا، فهذا محكم غير محتمل فإنه تصريح الالتزام بإحجاج فلان، وذلك صحيح بالنذر."
(كتاب المناسك، باب النذر، ج:4، ص:133، ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)
فتح القدير میں ہے:
"ومن قال: إن فعلت كذا فعلي أن أحج بفلان، فإن نوى أحج وهو معي فعليه أن يحج وليس عليه أن يحج به، وإن نوى أن يحجه فعليه أن يحجه لأن الباء للإلصاق فقد ألصق فلانا بحجه. وهذا يحتمل معنيين أن يحج فلان معه في الطريق وأن يعطي فلانا ما يحج به من المال، والتزام الأول بالنذر غير صحيح والثاني صحيح لأن الحج يؤدى بالمال عند اليأس من الأداء فكان هذا في حكم البدل وحكم البدل حكم الأصل فيصح التزامه بالبدل كما يصح التزامه بالأصل، فإذا نوى الوجه الأول عملت نيته لاحتمال كلامه، ولكن المنوي لا يصح التزامه بالنذر فلا يلزمه شيء وإنما عليه أن يحج بنفسه خاصة."
(کتاب الحج،مسائل منثورة، ج:3، ص:174، ط:دار الفكر، بيروت)
جامعہ کے سابقہ فتویٰ میں ہے:
"گزارش عرض یہ ہے کہ میں نے ایک منت مانی تھی جب میرا بیٹا پیدا ہوا تھا تو اس کو بہت خطرناک بیماری ڈاکٹر نے بتائی تو میں نے منت مانی کہ اگر یہ بیماری ختم ہو گئی تو میں کسی ضرورت مند کو حج کراؤں گی ، اس وقت بھی میرے پاس بہت پیسہ نہ تھا، میں نے دل میں سوچا تھا کہ اپنا زیور بیچ دوں گی اور پانی کے جہاز حج کرادوں گی ، لیکن میری کوتا ہی کہ اب تک میں نے اپنی منت پوری نہیں کی اور اللہ کے فضلی و کرم سے آج میرا بیٹا بارہ سال کاہے۔ اور آج کل حج کرانا اور مشکل ہو گیا ہے۔ ہر سال سوچتی ہوں اور پیسے پورے نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتا ہے ۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسا ہو سکتاکہ میں صرف ٹکٹ دلادوں اور حج کا باقی خرچ وہ خود اٹھالے؟ اگر ایسا ممکن ہے اور اس طرح میری منت پوری ہوسکتیتو مجھے بتادیں تاکہ میں اسی سال یہ منت ادا کروں، اللہ مجھے معاف کرے اور مجھ پر رحم کرے میں نے پہلے ہی بہت دیر کردی ہے۔
مستفیہ : ایک مسلمہ ، گلشن اقبال ، کراچی۔
جواب:واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی کام کے ہو جانے کی وجہ سے نذر مانے تو اس کام کے ہو جانے کی وجہ سے اس پر نذر پورا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ا لفقه الإسلامی وادلتہ میں ہے :
" وأما المقيد : هو المعلق بشرط كقوله : إن قدم فلان أو شفى الله مريضي فعلى كذا وحكمه: أنه يلزمه الوفاء به يتحقق الشرط: (۳۶۹/۳)۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ خاتون نے بیٹے کی صحت یابی پر کسی کو حج کرانے کی نذر مانی ہے تو اب جب اس کا بیٹا صحت یاب ہو چکا ہے تو اس نذر کا پورا کرنا اس پر لازم ہو گیا ؛ اس لیے حج کرنے پر جتنا خرچہ آئے گا وہ سارا کا سارا اس کو برداشت کرنا ہوگا ، صرف دو طرفہ ٹکٹ دلوانے سے نذر پوری نہیں ہوگی ۔ فقط واللہ اعلم
(فتویٰ نمبر:2251،رجسٹر نمبر:3)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101077
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن