
ایک باپ اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھتیجی سے کروانا چاہتا ہے۔ لیکن چند سال پہلے اس بیٹے نے اپنے چچا کی اسی بیٹی سے غصے میں یہ الفاظ کہے تھے: ”اگر میرا نکاح تجھ سے ہوا، تو تجھے طلاق۔“ اب اس شخص کو شک ہے کہ آیا میں نے واقعی یہ الفاظ زبان سے کہے تھے یا صرف دل میں یہ خیال آیا تھا، الفاظ ادا نہیں کیے تھے۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ:اب اس شخص کا اپنی کزن (یعنی چچا کی بیٹی) سے نکاح کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کو اگر صرف شک ہو کہ اُس نے یہ الفاظ:”اگر میرا نکاح تجھ سے ہوا تو تجھے طلاق“ زبان سے کہے تھے یا نہیں کہے تھے ، تو اس شک کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہوگا، مذکورہ کزن (یعنی چچا زاد بہن) سے نکاح کرنے کی صورت میں محض اس شک کی بنیاد پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اگر مذکورہ شخص نے واقعۃً یہ الفاظ زبان سے ادا کیے ہوں اور ظن غالب بھی یہی ہو تو مذکورہ کزن سے نکاح ہوتے ہی ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی،اور نکاح ٹوٹ جائے گا شوہر کو رجوع کا حق نہیں ہوگا، البتہ باہمی رضامندی سے دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا،تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
الاشباہ والنظائر میں ہے:
"قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل .... ومنها: شك هل طلق أم لا لم يقع."
(الفن الأول، القاعدة الثالثة، ص:50، 52، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1، ص:420، ط:دار الفكر بيروت)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل."
(كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3، ص:286، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."
(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج:1، ص:472، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100808
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن