بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نکاح کروں تو نکاح کے فوراً بعد میری منکوحہ پر طلاق ہوگی کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے کہا کہ :”اگر میں نکاح کروں تو نکاح کے فوراً بعد میری منکوحہ پر طلاق ہوگی“، اب اگر مذکورہ شخص نکاح نہ کرے تو اس کے زنا میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہے۔ شرعاً اس کا کیا حل ہے؟کیاوہ مذہب شافعی پر عمل کرسکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ ”اگر میں نکاح کروں تو نکاح کے فوراً بعد میری منکوحہ پر طلاق ہوگی“،  توایسی صورت میں احناف کے نزدیک اس مسئلہ کاحل یہی ہے کہ مذکورہ شخص جس لڑکی سےنکاح کرے گااس لڑکی سے  نکاح ہوتے ہی ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اس کے بعد  اگر مذکورہ شخص اسی لڑکی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو  نیا مہر مقرر کرکے نئے ایجاب وقبول کے ساتھ، شرعی گواہان کے سامنے دوبارہ تجدیدِ نکاح کرسکتا ہے ،البتہ آئندہ کے لیے مذکورہ شخص کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط ‌انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، ج:1، ص:415، ط:دار الفکر)

وفيه ايضاّ:

"إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو ‌كل ‌امرأة ‌أتزوجها فهي طالق."

(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه، ج:1، ص:420، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100928

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں