بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میں نے یہ کام کیا تو میں مشرک ہوں کا حکم


سوال

اگر کوئی وعدہ کرے کہ میں نے فلاں کام کیا تو میں مشرک ہوں ،  اور وہ کام ہو جائے تو کیا وہ مشرک ہو جائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے "اگر میں نے آئندہ یہ کام کیا تو میں مشرک ہوں"کہنے کے بعد مذکورہ کام  کیا اور قسم توڑڈالی تو وہ حانث ہوگیا، اس پر قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہے،اور کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھاناکھلادے،یا ایک مسکین کو دس دن تک دو وقت کا کھانا کھلادے،یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا دےدے،یا ہر ایک کو صدقہ فطر کے برابر  غلہ دےدے،اگراس کی طاقت نہ ہوتو تین دن لگاتار قسم کے کفارے کی نیت سے روزے رکھے۔ باقی فقط مذکورہ قسم توڑ کر حانث ہونے سے کافر نہیں ہوگا۔

بہشتی زیور میں ہے:

"مسئلہ: اس طرح کہا کہ اگر فلاں کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہوگئی،اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا،اور ایمان نہ جائے گا۔"

(قسم کھانے کا بیان،حصہ سوم ، ص:145،ط: توصیف پبلی کیشنز اردو بازار لاہور)

التجرید للقدوری میں ہے:

"إذا قال: ‌إن ‌فعلت ‌كذا، ‌فأنا كافر. فهذه كناية عن يمين؛ لأنه امتنع فيما حلف عليه وحرمه على نفسه كحرمة الكفر؛ لأن كل ما يصير به كافرا حرام، فكأنه قال: هذا الشيء علي حرام. وقد ثبت من أصولنا أن من حرم حلالا ثم انه استباحه فعليه كفارة يمين، فلا يعتبر في هذه الكناية يمين؛ لأن العرف قد يجري بالحلف بها، فصار جريان العرف كالنية."

(كتاب الأيمان، ‌‌مسألة الحلف بأن يكون يهوديا أو نصرانيا، ج:12، ص:6414، ط:دار السلام)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس. واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا.

وفی الرد:إن من قال إن فعلت كذا فأنا كافر مراده الامتناع بالتعليق ومن عزمه أن لا يفعل فليس فيه رضا بالكفر عند التعليق بخلاف ما إذا باشر الفعل معتقدا أنه يكفر بمباشرته فإنه يكفر وقت مباشرته لرضاه بالكفر"

(كتاب الأيمان، ج:3، ص:718، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الفصل الثاني في الكفارة:وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي...فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات....ولو أعطى مسكينا واحدا عشرة أثواب في مرة واحدة لم يجزئه كما في الطعام وإن أعطاه في كل يوم ثوبا حتى استكمل عشرة أثواب في عشرة أيام أجزأه كما في الطعام."

(كتاب الايمان، الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:62،ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں