
ایک شخص پر کسی دوسرے شخص نے الزام لگایا کہ اس کے فلاں طلاق یافتہ لڑکی کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ بات درست نہیں تھی ، یہ الزام سن کر پہلے شخص نے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے، قسم کھائی کہ میں اب اگر اسی طلاق یافتہ لڑکی سے تین ماہ کے اندر شادی نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق۔
اب سوال یہ ہے کہ تین ماہ کے اندر اس شخص نے اگر اسی مطلقہ لڑکی سے شادی نہ کی تو کیا پہلی بیوی کو طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص نےتین ماہ کےاندرمذکورہ مطلقہ لڑکی سےشادی نہ کی توپہلی بیوی کوطلاق ہوجائےگی۔اوراگرکرلی توطلاق نہیں ہوگی۔
الموسوعہ الفقهیہ الکویتیہ میں ہے:
" فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق ... وإذا لم يحصل لم يقع."
(حرف الطاء، الطلاق، الطلاق المعلق علی شرط، ج: 29، ط: 38، ط: دارالسلاسل - الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101570
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن