بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگرمیں مطلقہ لڑکی سےتین ماہ کےاندرنکاح نہ کروں تومیری بیوی کوطلاق ہےکہنےکاحکم


سوال

ایک شخص پر کسی دوسرے شخص نے الزام لگایا کہ اس کے فلاں طلاق یافتہ لڑکی کے ساتھ تعلقات ہیں اور یہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ بات درست نہیں تھی ، یہ الزام سن کر پہلے شخص نے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے، قسم کھائی کہ میں اب اگر اسی طلاق یافتہ لڑکی سے تین ماہ کے اندر شادی نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق۔

اب سوال یہ ہے کہ تین ماہ کے اندر اس شخص نے اگر اسی مطلقہ لڑکی سے شادی نہ کی تو کیا پہلی بیوی کو طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں اگرمذکورہ شخص نےتین ماہ کےاندرمذکورہ مطلقہ لڑکی سےشادی نہ کی توپہلی بیوی کوطلاق ہوجائےگی۔اوراگرکرلی توطلاق نہیں ہوگی۔

الموسوعہ الفقهیہ الکویتیہ میں ہے:

" فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق ... وإذا لم يحصل لم يقع."

(حرف الطاء، الطلاق، الطلاق المعلق علی شرط، ج: 29، ط: 38، ط: دارالسلاسل - الكويت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں