بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میں کفر کروں تو ہمیشہ کافر رہوں کہنے کے بعد کفرکا ارتکاب کیا تو کیا حکم ہوگا؟


سوال

اگر کوئی کہے کہ” اگر میں نے کفر کیا تو میں ہمیشہ کے لیے کافر رہوں گا اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ کے لیے کوئی معافی قبول نہیں ہوگی“ اور وہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے اور کچھ دیر بعد اپنے قول سے توبہ کرتا ہے تو اسلام میں داخل ہونے کے بعد کیا اس کی توبہ  قبول ہوتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ  شخص کا یہ کہنا ”اگر میں نے کفر کیا تو میں ہمیشہ کے لیے کافر رہوں گا اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ کے لیے کوئی معافی قبول نہیں ہوگی“ انتہائی نامناسب  بات ہے، اس کے بعد اگر اس نے حالتِ اسلام  میں  کفر کا ارتکاب کیاتو کافر ہوجائے گا اور اس پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا۔البتہ اگر وہ سچے دل سے توبہ کرکے ایمان  کی تجدید کر لے   تو اس کی توبہ قابلِ قبول ہوگی اور وہ  مسلمان سمجھا جائے گا،اگرچہ اس سے پہلے اس نے مذکورہ جملہ کہا ہو۔

یاد رہے کہ  اسلام کی حالت میں قصداً کوئی کفریہ یا شرکیہ جملہ زبان سے کہہ دے یا کوئی کفریہ یا شرکیہ عمل کرےجس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہوجائے ، تو اسلام کی حالت میں اُس نے جو کچھ اعمال کیے تھے، سب ساقط اور ضائع ہوجائیں گے۔ اور کفر سے پہلے اسلام کی حالت میں جو نماز روزے ذمہ میں واجب تھے ،اب  اسلام لانے کے بعد اُن کی ادائیگی بہرحال ضروری ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و."

(کتاب لجهاد، مطلب توبة اليأس مقبولة دون إيمان اليأس، ج:4، ص:231، ط:سعيد)

وفيه ايضا:

"(ويقضي ما ترك من عبادة في الإسلام) لأن ترك الصلاة والصيام معصية والمعصية تبقى بعد الردة (وما أدى منها فيه يبطل، ولا يقضي)من العبادات (إلا الحج) لأنه بالردة صار كالكافر الأصلي، فإذا أسلم وهو غني فعليه الحج فقط."

(كتاب الجهاد،مطلب توبة اليأس مقبولة دون إيمان اليأس، ج:4، ص:251، ط:سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

"مرتد ہوجانے کے بعد اعمال صالحہ ضائع ہوجاتے ہیں لیکن توبہ وتجدید  کے بعد پہلے کے عمل یعنی فرائض جن کےاسبابِ وجوب ختم ہوچکے ہیں، واجب الادانہیں ہیں ، ہاں حج اگر ارتداد کے بعد غنی ہو تو دوبارہ کرنا پڑے گا، نکاح کی تجدید بھی ضروری ہے۔"

(کتاب الحظر اوالاباحۃ، ج:9، ص؛258، ط:دار الاشاعت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101603

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں