بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر ماہواری شروع ہونے کے بعد تین دن گزرنے سے پہلے دوا کھانے کی وجہ سے خون آنا بند ہو جائے تو عورت پاک شمار ہوگی یا نہیں؟


سوال

اگر حیض شروع ہونے کے بعد تین دن گزرنے سے پہلے دوا کھانے کی وجہ سے خون آنا بند ہو جائے تو وہ عورت پاک شمار ہوگی یا نہیں؟ اور معلوم ہیں کہ اگر تین دن پورے ہونے کے بعد دوا کھانے سے خون بند ہو تو وہ ناپاک ہی رہے گی۔ لیکن وہ کتنے دن تک ناپاک شمار ہوگی؟ ابتدائی حیض ہو تو دس دن تک اور اگر عادت ہو تو عادت کے ایام تک یا اس میں دوسری کوئی بات ہے ؟ مع الدلائل بیان فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر عورت نے حیض کے ابتدائی تین دن گزرنے سے پہلے مانعِ حیض دوا استعمال کی اور اس کے بعد خون فوراً رک گیا، اور پھراگلی ماہواری ياكم از كم پندرہ دن تک دوبارہ خون ظاہر نہ ہوا، تو یہ خون استحاضہ شمار ہوگا، حیض نہیں۔

اور اگر تین دن کے اندر دوا استعمال کرنے کے باوجود تین دن پورے ہونے تک یا اس کے بعد  خون آیا تو یہ خون حیض شمار ہوگا۔اور اگر تین دن پورے ہونے کے بعد دوا کھائی اور خون بند ہوگیا تو عورت پاک شمار نہ ہوگی، بلکہ وہ اپنی مقررہ عادت کے ایام تک حائضہ رہے گی، اور اگر عادت نہیں ہے تو زیادہ سے زیادہ دس دن تک حائضہ شمار ہوگی۔

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

”واضح رہے کہ اگر عورت کے لیے  حیض کے روکنے کی دوا کا استعمال کرنا مضر نہ ہو، اور عورت اسے برداشت کر سکتی ہو، تو عورت کا مانعِ حیض دوا استعمال کرنے کی دو صورتیں ہیں:

(1)اگر حیض کے دن شروع ہو جائیں اور تین دن گزر جائیں، اور اس کے بعد حیض کے روکنے کی دواء لی جائے، تو یہ دن بھی حیض میں شمار ہوں گے، جیسا کہ فتاویٰ خیریہ میں ہے: (على هامش تنقيح الحامدية)

"فأفاد أن كل صاحب عذر إذا منع نزوله بدواء أو غيره خرج عن كونه صاحب عذر، بخلاف الحائض۔"

(2) اگر حیض کے دن ابھی تک شروع نہیں ہوئے، اور شروع ہونے سے پہلے حیض کے روکنے کی دواء لی جائے، تو یہ دن حیض میں شمار نہیں ہوں گے۔ قرآن کی تلاوت، نماز کی ادائیگی، روزہ اور ازدواجی تعلق جائز ہوگا۔“

(کتاب الطہارۃ، رقم الفتویٰ: 7371، رجسٹر نمبر: 271، مجیب: محمد اسلام، مصدق: مفتی عبد المجید دین پوری رحمہ اللہ، 1/12/1422ھ ــــ 14/02/2002ء)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"وقد صرح الحنفية بأنه إذا شربت المرأة دواء فنزل الدم في أيام الحيض فإنه حيض."

(حرف الحاء، حىض، أحكام عامة، إنزال ورفع الحيض بالدواء، ج: 18، ص: 327، ط: دار السلاسل)

ذخر المتاہلین والنساء للامام البرکوی میں ہے:

"فإن أحس ابتداء بنزوله ولم يظهر، أو منع منه بالشد أو الاحتشاء فليس له حكم. وإن منع بعد الظهور أولا فالحيض والنفاس باقيان دون الاستحاضة."

(الفصل الأول في ابتداء ثبوت الدماء الثلاثة، وانتهائه، والكرسف. ص:71، ط: دار الفكر)

منہل الواردین من بحار الفیض علیٰ ذخر المتاہلین فی مسائل الحیض لابن عابدین ميں هے:

"(ابتداء ‌بنزوله) أي الدم ونحوه كالبول (ولم يظهر) إلى حرف المخرج (أو منع) بصيغة المجهول أيضا معطوف على لم يظهر (منه) أي من ظهوره (بالشد) على ظاهر المخرج بنحو خرقة (أو الاحتشاء) في باطنه بنحو قطنة (فليس له حكم) أي لا ينتقض به الوضوء ولا يثبت به الحيض وقيل يثبت بمجرد الاحساس كما قدمناه (وإن منع بعد الظهور اولا فالحيض والنفاس باقيان) أي لا يزول بهذا المنع حكمهما الثابت بالظهور او لا كما لو خرج بعض المنى ومنع باقيه عن الخروج فإنه لا تزول الجنابة (دون الاستحاضة) فإنه إذا امكن منع دمها زال حكمها."

(الفصل الأول في ابتداء ثبوت الدماء الثلاثة، وانتهائه، والكرسف. ص: 14، ط: در سعادت)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"والفرق عندهم بين انقطاع الدم قبل العادة وبعد الثلاث - وهو أقل الحيض عندهم - وانقطاعه قبل الثلاث أنها تصلي، بالغسل كلما انقطع قبل العادة وبعد الثلاث لا بالوضوء. لأنه تحقق كونها حائضا برؤية الدم ثلاثة فأكثر، بخلاف انقطاعه قبل الثلاث، فإنها تصلي بالوضوء لأنه تبين أن الدم دم فساد لا دم حيض."

(حرف الحاء، حىض، أحوال الحيض، المبتدأة، المعتادة، أحوال المعتادة، ‌‌انقطاع الدم دون العادة، ج: 18، ص: 304، ط: دار السلاسل)

الدر مع الرد ميں هے:

"وبرده لا يبقى ذا عذر ‌بخلاف ‌الحائض.(قوله: ‌بخلاف ‌الحائض) ؛ لأن الشرع اعتبر دم الحيض كالخارج حيث جعلها حائضا وكان القياس خلافه لانعدام دم الحيض حسا اهـ حلية. وهذا إذا منعته بعد نزوله إلى الفرج الخارج كما أفاده البركوي، لما مر أنه لا يثبت الحيض إلا بالبروز لا بالإحساس به خلافا لمحمد، فلو أحست به فوضعت الكرسف في الفرج الداخل ومنعته من الخروج فهي طاهرة كما لو حبس المني في القصبة."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج: 1، ص: 308، ط: سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"ومتى قدر المعذور على رد السيلان برباط أو حشو أو كان لو جلس لا يسيل ولو قام سال وجب رده فإنه يخرج برده عن أن يكون صاحب عذر، بخلاف الحائض إذا منعت الدرور فإنها حائض."

(كتاب الطهارات، فصل في الاستحاضة، ج: 1، ص: 185، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں