
عصر کی نماز کس وقت قضاء ہوتی ہے؟اگر کوئی مغرب کی اذان سے پانچ منٹ پہلے عصر کی نماز پڑھ لے تو نماز ہوجائے گی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
واضح رہے کہ عصر کی نماز کاآخری وقت غروبِ آفتاب تک ہے ،البتہ سورج کی ٹکیہ زرد ہونے اور اس کی روشنی ماند پڑنے سے پہلے پہلے عصر کی نماز پڑھ لینی چاہیے، اگر کوئی اسی دن کی عصر کی نمازنہ پڑھے تو غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے پڑھ لینے سے نماز اداتو ہوجائے گی لیکن اتنی تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہےاور غروبِ آفتاب کے بعد عصر کی نماز قضاء ہوجاتی ہے؛صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص غروب آفتاب سے پانچ منٹ پہلے یا اس سے بھی کم وقت قبل عصر کی نماز کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہہ دے اور نماز شروع کر لے تو اگر چہ نماز کے دوران آفتاب غروب ہوجائے تو یہ نماز کراھت کے ساتھ ادا ہوگئی قضاء نہیں کہلائے گی دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وكره) تحريما، وكل ما لا يجوز مكروه (صلاة).........(وغروب، إلا عصر يومه) فلا يكره فعله لأدائه كما وجب
و في الرد: (قوله: وغروب) أراد به التغير كما صرح به في الخانية حيث قال عند احمرار الشمس إلى أن تغيب بحر وقهستاني.(قوله: إلا عصر يومه) قيد به؛ لأن عصر أمسه لا يجوز وقت التغير لثبوته في الذمة كاملا، لاستناد السببية فيه إلى جميع الوقت كما مر.(قوله: فلا يكره فعله) لأنه لا يستقيم إثبات الكراهة للشيء مع الأمر به، وقيل الأداء أيضا مكروه. اهـ. كافي النسفي.والحاصل أنهم اختلفوا في الكراهة في التأخير فقط دون الأداء أو فيهما، فقيل بالأول ونسبه في المحيط والإيضاح إلى مشايخنا، وقيل بالثاني وعليه مشى في شرح الطحاوي والتحفة والبدائع والحاوي وغيرها على أنه المذهب بلا حكاية خلاف، وهو الأوجه لحديث مسلم وغيره عن أنس رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول «تلك صلاة المنافق، يجلس يرقب الشمس حتى إذا كانت بين قرني الشيطان قام ينقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا» اهـ حلية، وتبعه في البحر."
(کتاب الصلوۃ، ج:1، ص:372/370، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703101756
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن