
جماعت کے دوران بعض حضرات کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ حضرات قیام کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ بعض حضرات قیام کے وقت بھی کرسیوں پر بیٹھے رہتے ہیں،اور یہ سب وہی لوگ ہیں جوکہ سجدہ کرنے سے قاصر ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ قیام کی حالت میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہوگا یا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا،جبکہ اس صورت میں کہ کھڑے ہونے کی وجہ سے صف برابر بھی نہیں رہتی؟
جو شخص شرعی عذر کی بنا پر کرسی پر نماز ادا کر رہا ہو اور زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، وہ ابتدا ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ جب سجدہ ساقط ہو جائے تو قیام بھی ساقط ہو جاتا ہے، اس لیے کھڑے ہوکر نماز پڑھنا لازم نہیں۔ اگر کھڑے ہو کر پڑھے تو نماز ادا ہو جائے گی، البتہ اس حالت میں بہتر یہی ہے کہ پوری نماز بیٹھ کر ہی ادا کرے تا کہ باجماعت نماز میں صفوں میں خلل نہ ہو۔
(نماز کے مسائل کا انساکلوپیڈیا،ج:3،ص:296،ط:بیت العمار)
فتاوی شامی میں ہے:
"لو قدر على بعض القيام دون تمامه، أو كان يقدر على القيام لبعض القراءة دون تمامها يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ ما قدر عليه ثم يقعد إن عجز وهو المذهب الصحيح لا يروى خلافه عن أصحابنا؛ ولو ترك هذا خفت أن لا تجوز صلاته. وفي شرح القاضي: فإن عجز عن القيام مستويا قالوا يقوم متكئا لا يجزيه إلا ذلك، وكذا لو عجز عن القعود مستويا قالوا يقعد متكئا لا يجزيه إلا ذلك، فقال عن شرح التمرتاشي ونحوه في العناية بزيادة: وكذلك لو قدر أن يعتمد على عصا أو كان له خادم لو اتكأ عليه قدر على القيام اهـ .
(قوله لأن البعض معتبر بالكل) أي إن حكم البعض كحكم الكل، بمعنى أن من قدر على كل القيام يلزمه فكذا من قدر على بعضه."
(کتاب الصلوٰۃ، باب صلاة المریض، ج:2 ،ص: 97 ، ط: سعید)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے:
"قال: (فإن عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام أومأ قاعدا) لأن فرضية القيام لأجل الركوع والسجود ; لأن نهاية الخشوع والخضوع فيهما، ولهذا شرع السجود بدون القيام كسجدة التلاوة والسهو ولم يشرع القيام وحده، وإذا سقط ما هو الأصل في شرعية القيام سقط القيام; ولو صلى قائما موميا جاز، والأول أفضل لأنه أشبه بالسجود."
(كتاب الصلوة، باب صلوة المريض، ج:1، ص:77، ط:مطبعة الحلبى)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وكذا لو عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام فالمستحب أن يصلي قاعدًا بإيماء وإن صلى قائمًا بإيماء جاز عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الصلوة، الباب الرابع عشر فى صلوة المريض، ج:1، ص:136، ط:دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101390
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن