بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر مالی استطاعت صرف حج یا ذاتی گھر بنانے اور بچوں کی شادی کی ہو، تو کیا مقدم ہے؟


سوال

میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے اور تین سال پہلے ریٹائر ہوئے۔ سرکاری قانون کے مطابق والد صاحب کو 28 لاکھ روپے ملے۔ یہ رقم والد صاحب کے پاس سال بھر رہی، اور والد صاحب پر کوئی قرضہ وغیرہ نہیں تھا، پھر انہوں نے اپنی رقم میں سے 12 لاکھ روپے میں ایک زمین خریدی، اور کچھ رقم باقی رہ گئی۔

والد صاحب اور میرے دوسرے بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ایک طرف حج کرنے کا ارادہ تھا اور دوسری طرف اپنا ذاتی گھر بنانے کا بھی ارادہ تھا۔ یوں دو سال گزر گئے۔

پچھلے سال والد صاحب کسی کے دھوکے میں آگئے اور اسے 9 لاکھ روپے بھیج دیے، یعنی یہ رقم ضائع ہوگئی۔ اس کے بعد چھوٹے بھائی کے کاروبار میں والد صاحب نے باقی رقم لگا دی۔ اب والد صاحب کے پاس تقریباً 15 لاکھ روپے موجود ہیں، اور والد صاحب پر کوئی قرضہ وغیرہ نہیں ہے۔ گھر کا خرچہ دادا، والد صاحب کی پینشن، اور چاچا کی کمائی سے پورا ہوتا ہے۔

اب بھی والد صاحب کا ارادہ حج کرنے کا ہے، لیکن ان کا ذاتی گھر نہیں ہے، اور گھر بنانا بھی ضروری ہے۔ والد صاحب کو اپنی اولاد کی شادی بھی کرانی ہے۔ اگر گھر بنایا جائے تو کم از کم 20 لاکھ روپے خرچ ہوں گے، لیکن اب تک گھر نہیں بنایا جا سکا۔

سوال یہ ہے:
 کیا مذکورہ صورت میں والد صاحب پر حج فرض ہے یا نہیں؟
ذاتی گھر نہ ہونے کی صورت میں پہلے گھر بنانا چاہیے یا حج کرنا چاہیے؟
اور تین اولاد کی شادی تو  کیا ان خرچ کرنا مقدم ہے یا حج کے لیے جانا ضروری ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد پر حج کرنا ضروری ہے، اور اگر وفات سے پہلے حج نہ کیا تو  گناہ ہو گا۔ حج فرض ہونے کے بعد  جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر کسی سال حج کے وقت اتنی رقم موجود تھی جس سے حج ممکن ہو، تو اس رقم سے مکان بنانا، خریدنا یا بچوں کی شادی وغیرہ   پرحج کرنے کو ترجیح دینا ضروری ہے ۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا كان له دار يسكنها وعبد يستخدمه وثياب يلبسها، ومتاع يحتاج إليه لا تثبت به الاستطاعة، وفي التجريد إن كان له دار لا يسكنها وعبد لا يستخدمه فعليه أن يبيعه ويحج به، ‌وإن ‌لم ‌يكن ‌له ‌مسكن، ‌ولا ‌شيء من ذلك وعنده دراهم يبلغ بها الحج أو يبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت فعليه الحج فإن جعلها في غير الحج أثم كذا في الخلاصة."

(كتاب المناسك، ج : 1، ص : 217، ط : دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌وإن لم يكن له مسكن ولا شيء من ذلك وعنده دراهم تبلغ به الحج وتبلغ ثمن مسكن وخادم وطعام وقوت وجب عليه الحج وإن جعلها في غيره أثم اهـ لكن هذا إذا كان وقت خروج أهل بلده كما صرح به في اللباب أما قبله فيشتري به ما شاء لأنه قبل الوجوب كما في مسألة التزوج الآتية وعليه يحمل كلام الشارح فتدبر (قوله يشترط بقاء رأس مال لحرفته) كتاجر ودهقان ومزارع كما في الخلاصة، ورأس المال يختلف باختلاف الناس بحر.

قلت: والمراد ما يمكنه الاكتساب به قدر كفايته وكفاية عياله لا أكثر لأنه لا نهاية له (قوله وفي الأشباه) المسألة منقولة ‌عن ‌أبي ‌حنيفة ‌في ‌تقديم ‌الحج ‌على ‌التزوج، والتفصيل المذكور ذكره صاحب الهداية في التجنيس، وذكرها في الهداية مطلقة، واستشهد بها على أن الحج على الفور عنده ومقتضاه تقديم الحج على التزوج."

(‌‌كتاب الحج، ج : 2، ص : 462، ط : سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101732

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں