
اگر کوئی بھوکا شخص کھانے کی چیز چوری کرے تو کیا اس پر حد قائم ہوگی؟
صورتِ مسئولہ میں اگربھوک کی شدت سے جان کا خطرہ لاحق ہے، تو ایسی اضطراری حالت میں جان بچانےکے لیے کوئی چیز نہ ملے تو چوری کرکے کچھ کھا کر جان بچانے کی گنجائش ہوگی، لیکن بعد میں جب استطاعت ہوجائے تو اس کا مثلیا اس کی قیمت مالک کو واپس کردینا ضروری ہوگا،اور ایسے آدمی پر حد جاری نہیں ہوگی۔
موطأ الإمام مالك میں ہے:
"عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، أن رقيقا لحاطب سرقوا ناقة لرجل من مزينة فانتحروها، فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب، «فأمر عمر كثير بن الصلت أن يقطع أيديهم، ثم قال عمر: أراك تجيعهم، ثم قال عمر: والله! لأغرمنك غرما يشق عليك، ثم قال للمزني: كم ثمن ناقتك؟ فقال المزني: قد كنت والله أمنعها من أربعمائة درهم، فقال عمر: أعطه ثمانمائة درهم."
ترجمہ:" یحیي بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کے غلاموں نے’’مُزینہ‘‘ (قبیلہ) کے ایک آدمی کی اونٹنی چر ا کر ذبح کرلی ، یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرا خیال میں تم انہیں بھوکا رکھتے ہو، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تمہارے اوپر اتنا تاوان ڈال دوں گا کہ تم گرانی محسوس کرو گے، پھر مُزنی سے فرمایا کہ تمہاری اونٹنی کی قیمت کیا ہوگی؟ مُزنی نے کہا: خدا کی قسم !میں نے تو وہ چار سو درہم میں بھی نہیں دی تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے آٹھ سو درہم دے دو۔"
(كتاب الأقضية، باب القضاء في الضواري والحريسة، ج:2، ص: 748، رقم الحدیث:38، ط:دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
"أخبرنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال: حدثني هشام بن عروة، عن عروة، أن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، أخبره عن أبيه، قال: توفي حاطب وترك أعبدا، منهم من يمنعه، من ستة آلاف يعملون في مال الحاطب، يشمران فأرسل إلي عمر ذات يوم ظهرا، وهم عنده، فقال: هؤلاء أعبدك سرقوا وقد وجب عليهم ما وجب على السارق، وانتحروا ناقة لرجل من مزينة اعترفوا بها ومعهم المزني «فأمر عمر أن تقطع أيديهم» ثم أرسل وراءه، فرده، ثم قال لعبد الرحمن بن حاطب: «أما والله لولا أني أظن أنكم تستعملونهم، وتجيعونهم، حتى لو أن أحدهم يجد ما حرم الله عليه لأكله، لقطعت أيديهم، ولكن والله إذ تركتهم لأغرمنك غرامة توجعك»، ثم قال للمزني: كم ثمنها؟ قال: «كنت أمنعها من أربع مائة» قال: أعطه ثمان مائة ."
(كتاب اللقطة، باب سرقة العبد، ج:10، ص:238، رقم الحدیث:18977، ط: المكتب الإسلامي-بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101311
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن