بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کسی عورت کے پاس 5تولہ سونااورخرچ کی کچھ رقم ہوتوکیا اس پرزکات لازم ہوگی؟


سوال

1:ایک عورت کے پاس اڑھائی (2.5) تولہ سونا ہے اور اس کے پاس اپنی ضرورت کی کچھ رقم ہے، تو اس عورت پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

2: ایک عورت کے پاس پانچ تولہ سونا ہے اور اس کے پاس کچھ رقم بھی ہے اور اس کی کچھ ضروریات بھی ہیں، یا عید آنے والی ہے اور بچوں کی ضروریات بھی ہیں، تو کیا اس عورت پر زکوٰۃ لازم ہوگی یا نہیں؟

رقم کی وضاحت:

یہ رقم اس کے پاس مالِ تجارت کے لیے نہیں بلکہ جیسے کبھی بھائی، باپ، اسی طرح دیگر رشتہ دار کچھ رقم دے دیتے ہیں یا شوہر خرچی کے لیے دے دیتا ہے، اور اس خرچی میں کچھ بچت ہو جاتی ہے، مگر یہ رقم مسلسل برقرار رہنے والی نہیں ہوتی۔ پھر ان پیسوں (ہبہ یا بچت کی رقم) سے کبھی اپنے لیے، کبھی بچوں کے لیے کپڑے، چپل وغیرہ کی چیزیں خریدتی ہے، کسی شادی پروگرام کے لیے یا عید کے لیے، یا ویسے ہی ان ضروریات کو اس رقم سے پورا کرتی ہے۔ اس طرح کبھی کبھی رقم نہیں بچتی اور کبھی پانچ یا دس ہزار بچ جاتے ہیں، مگر اگلے دنوں میں خرچ ہو جاتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ   اگر کسی کے پاس فقط سونا ہو ، تو سونے کی زکات کا نصاب ساڑھے سات (7.5) تولہ ہے، اگر کسی کے پاس اس مقدار سے کم سونا ہو اور اس کے ساتھ ضرورت سے زائد نقدی یا چاندی  یا مال تجارت  موجود نہ ہو، تو اس پر زکات واجب نہیں ہوتی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  جب مذکورہ دونوں عورتوں  میں سے ہر ایک کے پاس مقررہ نصاب سے کم سونا ہے اور اس کے ساتھ ضرورت سے زائد کوئی نقد رقم موجود نہیں ، تو ان عورتوں پر زکاۃ لازم نہیں ہے ۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(کتاب الزکاۃ، ج1، ص178، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں