بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگرگاہک آرڈردےکرتیارہونےکےبعدآرڈروصول نہ کرےتو نقصان کس کے ذمے ہوگا؟


سوال

پکوان والوں کے ساتھ ایسامعاملہ پیش آتا ہے کہ کوئی گاہک آ کر آرڈر دیتا ہے اور ایڈوانس دےکر چلا جاتا ہے، بعض اوقات آرڈر کی مالیت ستر، اسی ہزار یا ایک لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ پکوان سینٹر والے اس آرڈر کو وقت پر تیار کر لیتے ہیں، لیکن جب وہ گاہک کو فون کرتے ہیں تو وہ فون نہیں اٹھاتا، یا بعد میں اطلاع دیتا ہے کہ جس شخص کے کہنے پر آرڈر دیا تھا، اس نے لینے سے منع کر دیا ہے، یا تقریب منسوخ ہو گئی ہے۔

ایسی صورت میں، چونکہ اطلاع تاخیر سے دی جاتی ہے اور کھانا مکمل تیار ہو چکا ہوتا ہے، تو پکوان والوں کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ تیار شدہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچانا مقصود ہوتا ہے، اس لیے بعض حصہ کسی مدرسے کو بھجوا دیا جاتا ہے، اور باقی کھانا مستحقین اور غرباء میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

مذکورہ صورت کا کیا حکم ہے؟ نقصان برداشت کرنا کیسا ہے ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں؟

جواب

 صورت مسئولہ میں گاہک کاآرڈر دے کر  مال تیار ہوجانے کے بعد اگر گاہک مال لینے سے انکار کرے تو اگر کاریگر نے گاہک کے آرڈر کے مطابق مال بنایاہے تو گاہک کو واپس کرنے  کا اختیار نہیں ہے،بلکہ مال لینا لازم ہے ،اگرگاہک مال لینےنہ آئےپھربھی پکوان والےاپنے مکمل پیسےاس سےلینےکےحق دار ہوں گے،اگر انتظارکےبعدمال کے خراب ہونےکااندیشہ ہواورلینےوالانہ لینےآتاہواور نہ فون اٹھاتاہوتواولاًاسے جتنی قیمت پرکسی کوفروخت کیاجاسکتاہوتوفروخت کرلیاجائے،اور باقی قیمت آڈر دینے والے سے وصول کی جائے، اگرایساممکن نہ ہوتو  آرڈردینےوالےکی طرف سے صدقہ کی نیت کرکےمدارس اور مساکین وغیرہ پرتقسیم کرسکتےہیں ،اس صورت میں بھی پکوان والےاپنے پیسے  مکمل  گاہک سےوصول کرنےکےحق دار ہیں ،نہ دینے پرگاہگ گناہ گارہوگا،عنداللہ اس پر اس کامؤاخذہ ہوگا اورپکوان والوں کوچاہیئےکہ پہلےسے اپنےشرائط وضوابط میں یہ لکھ دیں کہ اگرآڈر تیارہونےکےبعدوصولی کےلیےنہ آئےاورمال خراب ہونےکےقریب ہوتوہم ان کومساکین وغیرہ پرتقسیم کردیں گے،اورضمان آپ پرہوگا،اورہرآڈردینےوالےکوپہلے سےان  شرائط سے باخبر کر دیں ۔

شرح المجلۃللاتاسی میں ہے:

"إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع عنه و إذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرًا لفوات الوصف المرغوب فيه أما الصانع فلا خيار له مطلقًا؛ لأنه باع مالم يره و لاخيار للبائع ... و أما إلزام الصانع على العمل و عدم رجوع الآمر عنه فهو و إن صرح به في التنوير للدرر و الوقاية إلا أنه مخالف لكثير من كتب المذهب لقول البحر : وحكمه الجواز دون اللزوم  و لذا قلنا للصانع أن يبيع المصنوع قبل أن يراه المستصنع لأن العقد غير لازم لما في البدائع : و أما صفته فهي أنه عقد غير لازم قبل العمل من الجانبين بلا خلاف ، حتي كان لكل واحد منها خيار الامتناع من العمل ، كالبيع با لخيار للمتبايعين فاِن لكل واحد منهما الفسخ  و أما بعد الفراغ من العمل قبل أن يراه المستصنع فكذلك حتى كان للصانع أن يبيعه ممن شاء و إذا أحضره الثاني فلا خيار لهما عند الثاني و عليه هذه المادة ....الخ" 

(رقم المادة :392، الباب السابع، الفصل الرابع : في الاستصناع، ج:2۔ ص:406،407 ط : إسلامية ، كوئٹه)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) حكم ‌الاستصناع فحكمه في حق المستصنع - إذا أتى الصانع بالمستصنع على الصفة المشروطة - ثبوت ملك غير لازم في حقه حتى يثبت له خيار الرؤية إذا رآه، إن شاء أخذه وإن شاء تركه، وفي حق الصانع ثبوت ملك لازم إذا رآه المستصنع ورضي به، ولا خيار له، وهذا جواب ظاهر الرواية.وروي عن أبي حنيفة أنه غير لازم في حق كل واحد منهما حتى يثبت لكل واحد منهما الخيار.وروي عن أبي يوسف - رحمه الله - أنه لازم في حقهما حتى لا خيار لأحدهما لا للصانع ولا للمستصنع أيضا (وجه) رواية أبي يوسف أن في إثبات الخيار للمستصنع إضرارا بالصانع؛ لأنه قد أفسد متاعه وفرى جلده وأتى بالمستصنع على الصفة المشروطة فلو ثبت له الخيار لتضرر به الصانع فيلزم دفعا للضرر عنه."

(وجه) الرواية الأولى أن في اللزوم إضرارا بهما جميعا، أما إضرار الصانع فلما قال أبو يوسف: وأما ضرر المستصنع فلأن الصانع متى لم يصنعه، واتفق له مشتر يبيعه فلا تندفع حاجة المستصنع فيتضرر به فوجب أن يثبت الخيار لهما دفعا للضرر عنهما."

(فصل فی الشرائط التي یرجع إلی المسلم، ج:5، ص:210، ط : دارالکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101192

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں