بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر فلاں کام کیا تو روزانہ اتنی رقم صدقہ کروں گا نذر ماننے کا حکم


سوال

اگر کوئی آدمی نذر مانے کہ : ”میں فلاں کام نہیں کروں گا اور اگر کر لیا تو میں روزانہ اتنے اتنے پیسے صدقہ  کروں گا“، اب سوال یہ ہے کہ :

  1. کیا اس کو ساری زندگی وہ صدقہ دینا پڑے گا؟
  2.  کیا اس صدقہ سے بہن، بھائی، والدین اور دوست احباب کو دینا یا ان کو کچھ کھلانا جائز ہے؟
  3.  کیا اس صدقہ سے کسی کو حج یا عمرہ کروانا یا  حج و عمرے کے لیے کسی کو  پاسپورٹ  بنواکر دینا جائز ہے؟
  4.  کیا اس صدقے کے پیسے مسجد و مدرسہ میں دینا جائز ہے ؟
  5.  کیا اس صدقہ سے اپنے ذی رحم محارم یا کسی اور  کے لیے کپڑےبنوانا جائز ہے ؟
  6.  منذر نے جتنی رقم کی نذر مانی ہے تو کیا  روزانہ اتنی ہی رقم دینا ضروری یا ٹکروں میں دے سکتے ہیں؟
  7.  کیا صدقہ اسی دن دینا ضروری ہے ؟  اگلے ایک دن یا کئی دنوں کا صدقہ پیشنگی دینا جائز ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ جس کام کے ہونے پر کوئی  منت مانی جائے  اگر وہ کام ایسا ہو جس کا ہونا ہی مطلوب ہو  جیسا کہ منت مانتے ہوئے یوں کہا جائے:  اگر میرا بیٹا اس بیماری سے شفا یاب ہوگیا تو ایک ہزار روپے صدقہ  کروں گا تو اس  صورت میں کام ہوجانے پربعینہ  منت پوری کرنا واجب ہوگا اور  اگر ایسے کام کی منت مانی جائے جس کا پورا ہونا مطلوب نہ  ہو،  مثلًا:  یوں منت مانی جائے  اگر آئندہ فلاں سے بات کی تو میں ہزار روپے صدقہ دوں گا ،  اس صورت میں فلاں سے بات کرنے پر منت ماننے  والے کو اختیار ہوگا کہ  چاہے تو بعینہ  منت پوری کرے یعنی ہزار روپے صدقہ کردے  یا قسم کا کفارہ دے  دے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر  مذکورہ  آدمی نے یہ نذر مانی کہ  : ”میں فلاں کام نہیں کروں گا اور اگر کر لیا تو میں روزانہ اتنے اتنے پیسے صدقہ  کروں گا“ تو چوں کہ ناذر کا مقصود وہ کام نہ کرنا ہے، لہذا   ایسی صورت میں   اگر وہ کام کرلیا تو  منت ماننے والے کو اختیار ہے، چاہے تو روزانہ  نذر کی ہوئی رقم صدقہ دے یا ایک مرتبہ قسم کا کفارہ ادا کردے۔

 اگر وہ بعینہ نذر کو پورے کرتا ہے تو باقی سوالات کے جوابات ترتیب وار درج ذیل ہیں:

1: اس کو عمر بھر روزانہ اتنی رقم صدقہ کرنا لازم ہوگا، اگر کسی دن نہ دے سکا تو اگلے دنوں میں ان کی قضا کرے گا۔

2: نذر کا صدقہ، صدقہ واجبہ ہے ، اس کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا ہے، لہذا جو  زکوٰۃ کے مستحق ہیں اور جن کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ان کو یہ صدقہ دیا جاسکتا ہے،  اس سے بہن بھائیوں ، والدین یا دوست واحباب کو کھانا کھلادینا جائز نہیں ہے، ہاں اگر بہن بھائی یا دوست احباب مستحق ہوں تو ان کو مالک بناکر رقم دینا جائز ہے۔

3:  نذر کی رقم سے کسی کو حج یا عمرہ کرانا یا براہ راست خود اس کی پاسپورٹ کی رقم ادا کردینا درست نہیں، البتہ اگر وہ مستحق ہوں اور ان کو مالک بناکر رقم دے دی تو وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں کرسکتے ہیں۔

4: جائز نہیں ہے۔

5:   اصول (والدین یا ان کے والدین وغیرہ)  فروع (اولاد اور ان کی اولاد وغیرہ)  کے علاوہ جو دیگر رشتہ دار ہیں، اگر وہ مستحق ہوں تو   اس رقم کے کپڑے لے  کر دینا بھی جائز ہے۔

6/ 7:  اصل تو یہی ہے روزانہ اتنی رقم صدقہ  دے دے ، البتہ کسی وجہ سے  کبھی نہ دے سکے تو بعد میں اس کو قضا کے طور پر دے، نیز اگلے دنوں کی پیشگی دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہوگی۔

باقی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ:   دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے، یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )، اور  اگر ’’جو‘‘  دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے۔  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔

قرآن کریم میں ہے:

"يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ."(سورة المائدة: 1)

ترجمہ: "اے ایمان والو! عہدوں کو پورا کرو۔" (بیان القران، ج: 2، ص: 21، ط: مکتبہ غزنوی کراچی)

روح المعانی میں ہے:

"وأوفوا بالعهد ما عاهدتم الله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباد ويدخل في ذلك العقود."

(روح المعانی،8/ 79، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم إن) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوبا (إن وجد) الشرط (و) إن علقه (بما لم يرده كإن زنيت  بفلانة) مثلا فحنث (وفى) بنذره (أو كفر) ليمينه (على المذهب) لأنه نذر بظاهره يمين بمعناه فيخير ضرورة.

قوله ثم إن المعلق إلخ) اعلم أن المذكور في كتب ظاهر الرواية أن المعلق يجب الوفاء به مطلقا: أي سواء كان الشرط مما يراد كونه أي يطلب حصوله كإن شفى الله مريضي أو لا كإن كلمت زيدا أو دخلت الدار فكذا، وهو المسمى عند الشافعية نذر اللجاج وروي عن أبي حنيفة التفصيل المذكور هنا وأنه رجع إليه قبل موته بسبعة أيام وفي الهداية أنه قول محمد وهو الصحيح. اهـ. ومشى عليه أصحاب المتون كالمختار والمجمع ومختصر النقاية والملتقى وغيرها، وهو مذهب الشافعي، وذكر في الفتح أنه المروي في النوادر وأنه مختار المحققين وقد انعكس الأمر على صاحب البحر، فظن أن هذا لا أصل له في الرواية، وأن رواية النوادر أنه مخير فيهما مطلقا وأن في الخلاصة قال: وبه يفتى وقد علمت أن المروي في النوادر هو التفصيل المذكور، وذكر في النهر أن الذي في الخلاصة هو التعليق بما لا يراد كونه فالإطلاق ممنوع. اهـ.

والحاصل: أنه ليس في المسألة سوى قولين الأول ظاهر الرواية عدم التخيير أصلا والثاني التفصيل المذكور وأما ما توهمه في البحر من القول الثالث وهو التخيير مطلقا وأنه المفتى به فلا أصل له كما أوضحه العلامة الشرنبلالي في رسالته المسماة تحفة التحرير فافهم (قوله بشرط يريده إلخ) انظر لو كان فاسقا يريد شرطا هو معصية فعلق عليه كما في قول الشاعر:علي إذا ما زرت ليلى بخفية … زيارة بيت الله رجلان حافيا

فهل يقال إذا باشر الشرط يجب عليه المعلق أم لا؟ ويظهر لي الوجوب لأن المنذور طاعة وقد علق وجوبها على شرط فإذا حصل الشرط لزمته، وإن كان الشرط معصية يحرم فعلها لأن هذه الطاعة غير حاملة على مباشرة المعصية بل بالعكس، وتعريف النذر صادق عليه ولذا صح النذر في قوله: إن زنيت بفلانة لكنه يتخير بينه وبين كفارة اليمين لأنه إذا كان لا يريده يصير فيه معنى اليمين فيتخير كما يأتي تقريره بخلاف ما إذا كان يريده لفوات معنى اليمين فينبغي الجزم بلزوم المنذور فيه وإن لم أره صريحا فافهم (قوله لأنه نذر بظاهره إلخ) لأنه قصد به المنع عن إيجاد الشرط فيميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا علق بشرط يريد ثبوته لأن معنى اليمين وهو قصد المنع غير موجود فيه لأن قصده إظهار الرغبة فيما جعل شرطا درر (قوله فيخير ضرورة) جواب عن قول صدر الشريعة.

أقول: إن كان الشرط حراما كإن زنيت ينبغي أن لا يتخير لأن التخيير تخفيف والحرام لا يوجب التخفيف قال في الدرر: أقول ليس الموجب للتخفيف هو الحرام بل وجود دليل التخفيف لأن اللفظ لما كان نذرا من وجه ويمينا من وجه لزم أن يعمل بمقتضى الوجهين ولم يجز إهدار أحدهما فلزم التخيير الموجب للتخفيف بالضرورة فتدبر. اهـ."

 (كتاب الأيمان، مطلب في أحكام النذر، 3/ 738، ط: سعيد)

المحيط البرهاني  میں ہے:

"إذا علق النذر بالصوم بالشرط، وأداه قبل وجود الشرط لا يجوز إجماعاً، ‌وإذا ‌كان ‌مضافاً ‌إلى ‌وقت (164أ1) وأداه قبل مجيء الوقت بأن قال: لله عليّ أن أصوم رجباً، فصام ربيع الأول مكانه، فعلى قول أبي يوسف: يجوز، وهو قول أبي حنيفة."

(كتاب الصوم، ‌‌الفصل الحادي عشر في النذور، 2/ 400، ط: دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704100649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں