
ایک صاحب نے جو کہ غیر شادی شدہ ہے، یہ قسم کھائی کہ : "وہ فلاں کام نہیں کرےگا، اگر اُس نے کر دیا تو اُس کی ہونے والی بیوی کو طلاق" پھر اس نے وہ کام کر دیا، کچھ دن بعد پھر یہی قسم کھائی کہ فلاں کام نہیں کروں گا، اگر کیا تو میری ہونے والی بیوی کو طلاق، پھر اُس نے وہ کام کر دیا، کچھ دن بعد پھر یہی قسم کھائی، اور پھر وہ فلاں کام کر دیا، اس طرح چار مرتبہ الگ الگ موقع پر قسم کھائی، اور ہر مرتبہ قسم توڑ دی تو اب اگر وہ نکاح کرتا ہے تو نکاح فضولی کے علاوہ کیا صورت ہے؟ نیز اگر طلاق واقع ہوگی تو کون سی اور کتنی؟
واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کی صورت میں طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شرط پائی جانے کے وقت بیوی ملکیت میں ہو، اگر شرط کے پائی جانے کے وقت بیوی ملکیت میں نہ ہو تو ایسی صورت میں شرط تو پوری ہوجائے گی، لیکن (طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سے) بیوی پر کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جب اس طرح طلاق کی قسم کھائی کہ : "وہ فلاں کام نہیں کرےگا، اگر اُس نے کر دیا تو اُس کی ہونے والی بیوی کو طلاق"، پھر اس نے ملکیت میں آنے سے پہلے ہی وہ کام کردیا تو ایسی صورت میں شرط پائی جانے کی وجہ سے اس کی قسم تو پوری ہوگئی، البتہ اب اگر وہ نکاح کرتا ہے تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم آئندہ کے لیے اس طرح کی قسمیں کھانے سے احتراز کریں۔
اللباب فی شرح الكتاب میں ہے:
"(فإن وجد الشرط في ملكه انحلت اليمين) لوجود الشرط (ووقع الطلاق) لوجود المحلية (وإن وجد) الشرط (في غير ملكه انحلت اليمين) أيضاً، لوجود الشرط (ولم يقع شيء) لعدم المحلية."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 47، ط: المكتبة العلمية، بيروت - لبنان)
الجوہرۃ النیرہ میں ہے:
"قوله (وإذا أضاف الطلاق إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) هذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط ولأنه إذا علقه بالشرط صار عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت فإذا وجد الشرط والمرأة في ملكه وقع الطلاق كأنه قال لها في ذلك الوقت أنت طالق وإن كانت خرجت من ملكه بعد هذا القول ثم وجد الشرط وهي في غير ملكه لم تطلق وانحلت اليمين لما بينا أنه يصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق ولو قال لها وقد خرجت من ملكه أنت طالق لم تطلق حاصله إذا قال لها إن دخلت الدار فأنت طالق ثم أبانها وانقضت عدتها ودخلت الدار انحلت اليمين لوجود الشرط ولم يقع عليها طلاق؛ لأن المعلق عند وجود الشرط كالمتكلم بالجواب في ذلك الوقت من طريق الحكم."
(كتاب الطلاق، طلاق الأخرس، ج: 2، ص: 39، ط: المطبعة الخيرية)
محیطِ برہانی میں ہے:
"إذا حصل تعليق الطلاق بشرطين ووجد الشرط الأوّل وهي في نكاحه ووجد الشرط الثاني وهي ليست في نكاحه ولا عدّته بأن أبانها بواحدة بعدما وجد الشرط الأوّل وانقضت عدتها، ثمَّ وجد الشرط الثاني لا يقع الطلاق، ولو وجد الشرط الأوّل في غير ملكه وعدّته ووجد الشرط الثاني في ملكه بأن تزوّجها بعد ما وجد الشرط الأوّل ثمَّ وجد الشرط الثاني يقع الطلاق.
مثال الأوّل: إذا قال لامرأته: إن كلمت زيداً وعمراً فأنتِ طالق، فكلمت أحدهما، ثمَّ إنَّ الزوج أبانها بواحدة وانقضت عدتها، ثمَّ كلمت الآخر فإنّه لا يقع الطلاق.
ومثال الثاني: إذا قال لها: إن كلمت زيداً وعمراً فأنتِ طالق، فأبانها بواحدة وانقضت عدتها، ثمَّ كلّمت أحدهما، ثمَّ تزوّجها، ثمَّ كلّمت الآخر وقع الطلاق عندنا."
(كتاب الطلاق، الفصل السابع عشر: في الأيمان في الطلاق، ج: 3، ص: 396، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100681
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن