
عرض ہے کہ میری بیٹی جس کی عمر 34 سال ہے اور شادی شدہ ہے، دو بچوں (جن کی عمر 7 سال اور 4 سال ہے)کی ماں ہے۔ 4 سال قبل جب بچے کی پیدائش ہوئی تو اس کے گردوں پر اثر آگیا تھا جو کہ اب ڈائیلیسز پر ہے، اس کے دونوں گردے اب ختم ہو چکے ہیں اور ہفتہ میں تین مرتبہ ڈائلیسز ہورہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھائی بہن گردے دینے پر تیار نہیں ہے۔ ہسپتال والے کہہ رہے ہیں کہ آپ پیسے کا انتظام کریں ہم خود گردے کا انتظام کرتے ہیں، کیا اس طرح پیسے دے کر گردے لینا شرعاً جائز ہوگا جب کہ قانونی طور پر بھی یہ جائز نہیں ہے؟ اس میں اگر کوئی صورت نکلتی ہے تو اس بارے میں راہ نمائی کریں!
واضح رہے کہ انسانی عضو کا (خواہ زندہ کا ہو یا مردہ کا) دوسرے انسان کے جسم میں استعمال (معاوضہ کے ساتھ ہو یابغیرمعاوضہ کے) جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر چہ آپ کی بیٹی کے دونوں گردے کام نہیں کرتے تو بھی گردے تبدیل کرانا (خواہ معاوضہ کے بدلے گردے حاصل ہوں یا بغیر معاوضہ کے) شرعاً کسی بھی طریقہ سے جائز نہیں ہیں، اس لیے اس سے اجتناب لازم ہے۔
مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ تحریر فرماتے ہیں:
” انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہےنہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے،اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے اصول میں تو خود کشی کرنا اور اپنی جان یا اعضاء رضاکارانہ طور پر یا بقیمت کسی کو دے دینا قطعی طور حرام ہی ہے جس پر قرآن و سنت کی نصوصِ صریحہ موجود ہیں، تقریباً دنیا کے ہر مذہب و ملت اور عام حکومتوں کے قوانین میں اس کی گنجائش نہیں، اس لیے کسی زندہ انسان کا کوئی عضو کاٹ کر دوسرے انسان میں لگادینا اس کی رضامندی سے بھی جائز نہیں ۔۔۔ شریعتِ اسلام نے صرف زندہ انسان کے کارآمد اعضاء ہی کا نہیں، بلکہ قطع شدہ بے کار اعضاء و اجزاء کا استعمال بھی حرام قرار دیا ہے، اور مردہ انسان کے کسی عضو کی قطع و برید کو بھی ناجائز کہا ہے، اور اس معاملہ میں کسی کی اجازت اور رضامندی سے بھی اس کے اعضاء و اجزاء کے استعمال کی اجازت نہیں دی، اور اس میں مسلم و کافر سب کا حکم یک ساں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانیت کا حق ہے جو سب میں برابر ہے۔ تکریمِِ انسانی کو شریعتِ اسلام نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کسی وقت کسی حال کسی کو انسان کے اعضاء و اجزاء حاصل کرنے کی طمع دامن گیر نہ ہو، اور اس طرح یہ مخدومِ کائنات اور اس کے اعضاء عام استعمال کی چیزوں سے بالاتر ہیں جن کو کاٹ چھانٹ کر یا کوٹ پیس کر غذاؤں اور دواؤں اور دوسرے مفادات میں استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ائمہ اربعہ اور پوری امت کے فقہاء متفق ہیں، اور نہ صرف شریعتِ اسلام بلکہ شرائعِ سابقہ اور تقریباً ہر مذہب و ملت میں یہی قانون ہے۔“
(انسانی اعضاء کی پیوندکاری، ص: ۳۶، مصدقہ مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ)
مسندِ احمد میں ہے:
"عن ابن عباس قال: كان رسول ال له-صلي الله عليه وسلم- إذا بعث جيوشه قال: "اخرجوا بسم الله، تقاتلون في سبيل الله، من كفر بالله، لا تغدروا، ولا تغلوا، ولا تمثلوا، ولا تقتلوا الولدان، ولاأصحاب الصوامع."
(من مسند بني هاشم،ج:3، ص:218،ط: دار الحديث)
سنن أبي داود میں ہے:
"عن أبي واقد، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ما قطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة."
(كتاب الصيد،باب في صيد قطع منه قطعة،ج:4،ص:480، ط: دار الرسالة العالمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة، وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب حتى لو كان عبدا أو مكاتبا أو مدبرا أو أم ولد أو من في رقبته شيء من الرق أو كان صغيرا أو مجنونا أو لا يكون مالكا للموهوب لا يصح، هكذا في النهاية. وأما ما يرجع إلى الموهوب فأنواع منها أن يكون موجودا وقت الهبة فلا يجوز هبة ما ليس بموجود وقت العقد........ ومنها أن يكون مالا متقوما فلا تجوز هبة ما ليس بمال أصلا كالحر والميتة والدم وصيد الحرم والخنزير وغير ذلك ولا هبة ما ليس بمال مطلق كأم الولد والمدبر المطلق والمكاتب ولا هبة ما ليس بمال متقوم كالخمر، كذا في البدائع."
(كتاب الهبة ،الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها،ج:4، ص:374،ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرائطها كون الموصي أهلا للتمليك) فلم تجز من صغير ومجنون ومكاتب إلا إذا أضاف لعتقه كما سيجيء (وعدم استغراقه بالدين) لتقدمه على الوصية كما سيجيء (و) كون (الموصى له حيا وقتها) تحقيقا أو تقديرا ليشمل الحمل الموصى له فافهمه فإن به يسقط إيراد الشرنبلالي (و) كونه (غير وارث) وقت الموت (ولا قاتل) وهل يشترط كونه معلوما. قلت: نعم كما ذكره ابن سلطان وغيره في الباب الآتي (و) كون (الموصى به قابلا للتملك بعد موت الموصي)."
(كتاب الوصایا، ج:6، ص:649، ط: ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني."
(کتاب الودیعة،ج:4، ص:338، ط: رشیدية)
وفیہ أیضا:
"الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي."
(كتاب الكراهية ،الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات،ج:5، ص:354، ط: رشیدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102071
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن