بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر باپ بچے کے نفقہ دینے سے دستبردار ہو جائے تو کیا بچے کی پرورش کرنے والا شخص بچے کے مال میں سے اس پر خرچ کر سکتا ہے؟


سوال

میری  ماموں زاد بہن مرحومہ آسیہ بنت  غلام قادر کا نومولود بچہ، خاندان کے لوگوں نے  میرے سپرد کیا، بچہ  کاوالد (در محمد)اس کی ذمہ داری سے  مکمل طور پر  دستبردار ہوگیا، اس بچہ کی والدہ کی میراث تقسیم کرنے کے بعد  میرے پاس اس کے حصے کے31 گرام سونے کے زیورات امانت تھے جو میرے پاس بچے کے چچا اور ماموں نے  بچہ کے بالغ ہونے تک رکھوائے تھے، سال 2020 میں کرونا کے حالات کی وجہ سے میرے مالی معاملات خراب ہونے پر میں نے وہ زیورات مبلغ 245000 روپے میں فروخت کیے اور اس وقت بچہ کے ماموں عبد الرحمن بھی اسی موقع پر موجود تھے ان کی اجازت  بھی تھی،اور اس رقم کو میں نے صرف بچہ کی پرورش اور تعلیم وتربیت کے لیے استعمال کیا، میں نے اس رقم کو اپنے لیے استعمال نہیں کیا،ب اس رقم سے زیادہ ہی اخراجات بچہ پر کیے ہیں ، جس وقت  یہ امانت فروخت کی تھی اس وقت بچہ کی عمر 8 سال تھی اور ابھی 13 سال ہے ، اور مزید خرچ کر رہا ہوں ۔

 اب سوال یہ ہے کہ میرا اس امانت کو فروخت کر کے بچہ پر خرچہ کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

وضاحت:بچہ لیتے ہوئے اس کے اخراجات میں نے اپنے ذمہ لیے تھے اور میں نے کبھی بھی بچے کے والد سے اخراجات نہیں مانگے،بچہ کی نانی اور دادی کا انتقال ہو گیا تھا،بچہ کی کوئی پھوپھی  نہیں ہے، بچہ کی خالہ نے بچہ کو لینے سے انکار کر دیا تھا،اوراس کے خاندان میں کوئی بھی اس کو لینے کے لیے تیار نہ تھا، اس لیے رشتہ داری کی وجہ سے میں نے لے لیا۔والد  بچہ لینے سے اس لیے بھی دستبردار ہوگیا تھا کہ اس کے پاس پہلے سے دو بچے تھے جن کو سنبھالنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ 

جواب

واضح رہے کہ بچہ کے کی ملکیت میں اس کا ذاتی مال ہوتو اس کے مال سے اس کے اخراجات پورے کیے جائیں گے،اور اگر بچہ کے پاس ذاتی مال نہ ہوتو اس کے والد پر اس کانفقہ لازم ہوگا ۔نیز بچہ کے مال میں اس کے باپ کو ولایت حاصل ہوتی ہے تاہم اگر باپ اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے یا عملاً دستبردار ہوجائےاور بچہ کی ذمہ داری پوری کرنے والاکوئی نہ ہو تو ایسی صورت میں قاضی یااس کی طرف سے مقرر کیے گئے نائب  کو بچہ کے مال میں ولایت کا اختیار ہوگا اور اگر شرعی قاضی تک رسائی نہ ہوتو ایسی صورت میں   اگر چند نیک، بااعتماد، سمجھ دار اور امانت دار مسلمان  باہمی مشاورت سےکسی مناسب شخص کوبچہ کا مال محفوظ رکھنے کی غرض سے دے دیں تو اس کے لیے وہ مال بطورِ حفاظت اپنے پاس رکھنا جائز ہوگا،نیز اگر بچہ کے نان نفقہ کا کوئی اور انتظام نہ ہو تو بقدرِ ضرورت  اس کے مال سے اس پر خرچ کرنا بھی جائز ہوگا۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل کی مرحومہ ماموں زاد بہن کے انتقال کے بعد اس کا شوہر اپنے بچہ کی پرورش اور نان نفقہ سے دستبردار ہوگیا اور خاندان کے بڑوں نےباہمی مشاورت سے  بچہ کی پرورش اور نان نفقہ کی ذمہ داری سائل کو سپرد کر دی  توایسی صورت میں چوں کہ بچہ کی ملکیت میں اس کی مرحومہ والدہ کی طرف سےوراثت میں ملنے والے زیورات موجود  تھے؛اس لیے ضابطہ کے مطابق بچہ کا نان نفقہ  اس کے ذاتی مال سے پورا کرنا جائز تھا،لہذ ااگر سائل نے بچے کی ضرورت اور مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے زیورات فروخت کر کے حاصل شدہ رقم اسی بچے کے اخراجات پر صرف کی، تو یہ اقدام شرعاً جائز ہے۔

الجوهرة النيرة علی مختصر القدوری میں ہے:

"نفقة الأولاد وهي تجب على الأب موسرا كان أو معسرا إلا أنه يعتبر أن يكون الولد حرا والأب كذلك وأن يكون الولد فقيرا أما إذا كان له مال فنفقته في ماله."

(کتاب النفقات، ج:2، ص:83، ط:المطبعة الخيرية)

وفيه ايضا:

 "(قوله وتجب نفقة الصغير على أبيه) يعني إذا لم يكن له مال."

(كتاب النفقات، ج:2، ص:89، ط:المطبعة الخيرية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ووصي أبي الطفل أحق إلخ) الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه."

(كتاب الوصي، باب الوصايا، ج:6، ص:714، ط:سعيد)

شرح الخرشي على مختصر خليل  میں ہے:

"وجماعة ‌المسلمين ‌العدول يقومون مقام الحاكم في ذلك وفي كل أمر يتعذر الوصول إلى الحاكم أو لكونه غير عدل."

(باب موجبات النفقة، ج:4، ص:198، ط:دار الفكر للطباعة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں