بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر اپنی اولاد کے نسب کے بارے میں شک ہو تو کیا ڈی این اے ٹیسٹ کرواسکتے ہیں ؟


سوال

اگر کسی کے والد کو شک ہو کہ اس کا بچہ اصل میں اس کا نہیں ہے،جب کہ اس کی بیوی کہہ رہی ہو کہ اسی کا بچہ ہے،تو کیا وہ کنفرم کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرواسکتا ہے ؟باپ ،بچے کو اپنا نام بھی دے چکا ہےاور بچہ اب پانچ سال کا ہے،پھر اگر ڈی این اے ٹیسٹ میں پتا چلے کہ بچہ مذکورہ باپ کی اولاد نہیں ہے،تو کیا وہ بچہ اس والد کی جائیداد میں وارث ہوگا ؟

جواب

 شریعت کا ضابطہ ہے کہ" الولد للفراش وللعاهر الحجر"کہ  شادی شدہ جوڑے کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی صورت میں اس کا نسب بہر صورت اپنے والد سے ثابت ہوتا ہے یعنی جس کے نکاح میں عورت موجود ہے،اسی سے نسب ثابت ہوگا   ،البتہ  اگر شوہر اس  بچے کے نسب کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی شریعت نے لعان کا طریقہ مقرر کیا ہے  ،جب دونوں قاضی کے سامنے  اپنا معاملہ پیش کریں اور پھر دونوں کے درمیان لعان ہو تو قاضی کے فیصلہ دینے سے بیوی سے نکاح بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے اور بچہ کا نسب باپ سے ختم ہوجاتا ہے اور بچہ ماں کی طرف منسوب ہوتا ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر بچے کی ماں مذکورہ شخص کے نکاح میں تھی تو یہ واضح  ثبوت ہے کہ بچے کاباپ مذکورہ شخص ہی ہے؛ لہذا   مزید جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں ہے، اور بچے کا نسب اسی والد سے ثابت ہوگا، اوراگر والد کا انتقال پہلے ہو گیا تو  مذکورہ بچہ اپنے شرعی حصہ کے بقدر اپنے والد کی میراث میں حق دار بھی ہوگا۔

نیز واضح رہے کہ  نسب کے ثبوت کے متفقہ  طریقے:  فراش  (عورت جس مرد کے نکاح میں ہو ، اس سے بچہ کا نسب ثابت ہونا) ، شہادت (گواہی) اور اقرار ہیں، نیز احناف رحمہم اللہ کے نزدیک ”قیافہ“  کا اعتبار بھی نہیں ہے ،اس لیے ثبوت نسب کے سلسلے میں ڈی این اے کے بجائے انہی شرعی طریقوں کااعتبار کیا جائے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط."

( کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب، ج:1، ص:536، ط:رشیدیه)

وفيها أيضا:

"إذا التعنا فرق الحاكم بينهما ولا تقع الفرقة حتى يقضي بالفرقة على الزوج فيفارقها بالطلاق، فإن امتنع فرق القاضي بينهما، وقبل أن يفرق الحاكم لا تقع الفرقة، والزوجية قائمة، يقع طلاق الزوج عليها وظهاره وإيلاؤه، ويجري التوارث بينهما إذا مات أحدهما".

(كتاب الطلاق، الباب الحادي عشر في اللعان، ج:1، ص:516، دارالفكر)

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"وقال الكوفيون والثوري وأبو حنيفة وأصحابه: الحكم بها باطل لأنها حدس، ولا يجوز ذلك في الشريعة وليس في حديث الباب حجة في إثبات الحكم بها لأن أسامة قد كان ثبت نسبه قبل ذلك ولم يحتج الشارع في إثبات ذلك إلى قول أحد، وإنما تعجب من إصابة مجزز كما يتعجب من ظن الرجل الذي يصيب ظنه حقيقة الشيء الذي ظنه، ولا يجب الحكم بذلك. وترك رسول الله صلى الله عليه وسلم، الإنكار عليه لأنه لم يتعاط بذلك إثبات ما لم يكن ثابتا وقد قال تعالى: {ولا تقف ما ليس لك به علم} (الإسراء: 63)."

(باب القائف، ج23، ص264، ط؛دار احیاء التراث العربی)

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن ابن عمر أن رجلا من أهل البادية أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله؛ إن امرأتي ولدت على فراشي غلاماأسود، وإنا أهل بيت لم يكن فينا أسود قط، قال: "هل لك من إبل؟ "، قال: نعم، قال: "فما ألوانها؟ "، قال: حمر، قال: "هل فيها أسود؟ "، قال: لا، قال: "فيها أورق؟ "، قال: نعم، قال: "فأنى كان ذلك؟ "، قال: "عسى أن يكون نزعه عرق"، قال: "فلعل ابنك هذا نزعه عرق."

(كتاب النكاح، باب الرجل يشك في ولده،‌‌ ج:11، ص:469، ط:دار المنهاج)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144605100258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں