بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

''اگر آئندہ میں نے قرض دیا تو میں مسلمان نہیں ہوں گی'' کہنے کے بعد قرض دینے کا شرعی حکم


سوال

ایک عورت سے گھر کے کسی فرد نے پیسے قرض مانگے۔ اس نے اسے قرض دے دیا۔ کچھ دنوں بعد جب اس قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں قرض ادا کر چکا ہوں۔ مقرضہ نے کہا کہ آپ نے رقم واپس ادا نہیں کی، لیکن وہ مقروض اپنی بات پر ڈٹا رہا۔اس پر مقرضہ نے غصے میں آ کر کہا: ’’اگر آئندہ میں نے اس گھر کے کسی فرد کو قرض دیا تو میں مسلمان نہیں ہوں گی۔‘‘

اس کے بعد جب بھی اس گھر کے افراد میں سے کوئی قرض طلب کرتا، تو وہ اپنے عذر کے طور پر یہی قسم پیش کرتی اور کہتی: ’’اگر میں قرض دوں گی تو دائرۂ اسلام سے نکل جاؤں گی۔‘‘ اس کے بعد گھر کے کسی فرد نے قرض طلب کیا تو اس نے اسے قرض دے دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ قسم کا کیا حکم ہے؟ کیا اس گھر کے کسی فرد کو قرض دینے سے اس کا اسلام برقرار رہا یا نہیں؟ نیز اس کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون نے یہ الفاظ اگر غصہ میں کہے تھے تو مذکورہ جملہ کہنے کے بعد مذکورہ عورت قرض دینے سے دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو گی، البتہ قسم ٹوٹ جانے کی وجہ سے قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہو گا، اور آئندہ اس قسم کی قسمیں اٹھانے سے بالکل اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرًا فهو يمين استحسانًا، كذا في البدائع.
حتى لو فعل ذلك الفعل يلزمه الكفارة، وهل يصير كافرًا؟ اختلف المشايخ فيه، قال: شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرًا لرضاه بالكفر"

(كتاب الأيمان ،الباب الثاني فيما يكون يمينا وما لا يكون يمينا،ج:2،ص:54،ط:رشیدیه)

فتاوی شامی ہے:

''والقسم ایضا بقولہ ان فعل کذا فھو کافر…… و اختلف فی کفرہ والاصح ان الحالف لم یکفر سواءً علقہ بماض او آتٍ وھو الصحیح ان کان عندہ فی اعتقادہ انہ یمین وان کان جاھلاً وعندہ انہ یکفر فی الحلف بالغموس وبمباشرۃ الشرط فی المستقبل یکفر فیھما لرضاہ بالکفر۔

قوله وعنده أنه يكفر) عطف تفسير على قوله جاهلا. وعبارة الفتح: وإن كان في اعتقاده أنه يكفر به يكفر لأنه رضي بالكفر حيث أقدم على الفعل الذي علق عليه كفره وهو يعتقد أنه يكفر إذا فعله ''

(كتاب الأيمان ،ج:3،ص:717،ط:سعید)

 فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"سوال: شخصے حلف کرد کہ بر زید ظلم وحق تلفی او نخواہم کرد اگر کنم پس من کافر و از شفاعت شفیع المذنبین بریم، پس اگر بر زید ظلم وحق تلفی او کند بموجب یمین خود کافر گرد و از شفاعت شفیع المذنبین بروخواہد شد یا نہ؟

(الجواب) این قسم ست کہ بصورتِ حنث کفارہ بر لازم شود، درکفر او بصورت حنث اختلاف است واضح انست کہ کافر نہ شود۔"

(ج:12 ،ص:35، باب الیمین، ط: دارالاشاعت)

بہشتی زیور میں ہے:

"مسئلہ:  یوں کہا اگر فلانا کام کروں تو بے ایمان ہو کر مروں مرتے وقت ایمان نہ نصیب ہو بے ایمان ہو جاؤں یا اس طرح کہا اگر فلانا کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہو گئى اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا اور ایمان نہ جائے گا۔"

(حصہ سوم ، ص: 145، قسم کھانے کا بیان، ط: توصیف پبلیشر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں