
اگر کوئی مسلمان لڑکی اپنی خوشی سے بھاگ کر کسی آغاخانی /غیر مسلم سے شادی کرلے یا اگر کوئی ماں باپ اپنی بیٹی کا نکاح کسی آغاخانی /غیر مسلم سے کرادیں تو مذکورہ دونوں صورتوں میں ، والدین کے انتقال کے بعد کیا ایسی لڑکی والدین کی وراثت کی حق دار ہوگی؟
اسماعیلی /آغا خانی فرقہ اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے، یہ فرقہ مسلمانوں سے الگ ایک مستقل فرقہ ہے،اور کسی بھی مسلمان لڑکی کے لیے کافر لڑکے سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، لہذا اگر مسلمان لڑکی خود کسی آغاخانی سے نکاح کرلے یا اس کے والدین نکاح کروادیں، دونوں صورتوں میں نکاح منعقد نہیں ہوگا اور ان کے درمیان فی الفور علیحدگی لازم ہوگي، اور ایسا نکاح کر کے ساتھ رہنے سے بدکاری اور زنا کاری کرنے کا گناہ ملتا رہے گا، لہذاجتنا عرصہ ساتھ رہے، اس پر توبہ، استغفار کرنابھی ضروری ہوگا۔
باقي اگر مسلمان لڑکی نے اپنا مذہب ترک نہیں کیا اور غیر مسلم سے نکاح کو جائز اور حلال نہیں سمجھا اور نہ اس کے مذہب کے عقائد کو درست سمجھ کر اس پر راضی ہوئی، بلکہ خواہشاتِ نفسانیہ کی بنا پر یا ان کے مذہب کے عقائد پر مطلع نہ ہونے کی بنا پر غیر مسلم کے ساتھ نکاح کرلیا تو ایسی صورت میں مذکورہ لڑکی اسلام سے خارج نہیں، البتہ سخت جرم اورگناہ کی مرتکب ہے، لہذاایسی صورت میں وہ اپنے مسلمان والدین کی میراث سے محروم نہیں ہوگی۔ ہاں اگر خدانخواستہ مذکورہ لڑکی ، ان کے کفریہ عقائد پر مطّلع ہونے کے باوجود ، ان سے نکاح کو جائز سمجھتے ہوئے آغاخانی لڑکے سے نکاح کرلے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گی، ایسی صورت میں اپنے مسلمان والدین کی میراث سے محروم ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها: إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمةً فلايجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولاتنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببًا داعيًا إلى الحرام فكان حرامًا، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلايجوز إنكاح المسلمة الكتابي كما لايجوز إنكاحها الوثني والمجوسي؛ لأن الشرع قطع ولاية الكافرين عن المؤمنين بقوله تعالى: {ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلًا} [النساء: 141] فلو جاز إنكاح الكافر المؤمنة لثبت له عليها سبيل، وهذا لايجوز".
(كتاب النكاح، فصل إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة، 2/ 271، ط: سعيد)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي - عليه الصلاة والسلام - تحريمه كنكاح المحارم فكافر. اهـ. قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلما فإنه يكفر مستحله على أحد القولين. اهـ. وحاصله أن شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراما لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط وعلمت ترجيحه، وما في البزازية مبني عليه".
(كتاب الزكاة، 2/ 292، ط: سعید)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"واختلاف الدين أيضا يمنع الإرث والمراد به الاختلاف بين الإسلام والكفر."
(كتاب الفرائض، الباب الخامس في موانع الإرث، 6/ 454، ط: رشيدية)
وفيه أيضا:
"المرتد لا يرث من مسلم ولا من مرتد مثله."
(كتاب الفرائض، الباب السادس في ميراث أهل الكفر، ميراث المرتد، 6/ 455، ط: رشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100466
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن