
ہمارے علاقے میں ایک غیر سرکاری ادارہ "اے کے آر ایس پی" *Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP)* کام کر رہا ہے، جو حکومتِ پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ایک این جی او ہے، اس کے منشور میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس کا مقصد غربت کا خاتمہ اور علاقائی ترقی ہے، اور یہ تمام کام علاقہ مکینوں کی شراکت سے انجام دیتا ہے۔ اس ادارے میں ہر مسلک کے لوگ کام کرتے ہیں،سنی بھی اور اسماعیلی بھی، "اے کے آر ایس پی" (AKRSP) کے پاس مختلف پراجیکٹس ہیں جو بیرونی ممالک اور ہماری صوبائی حکومت کی طرف سے فراہم کیے گئے فنڈز سے چلتے ہیں۔ ہر پراجیکٹ کا اپنا الگ فنڈ ہوتا ہے؛ کچھ تعلیم اور صحت سے متعلق ہیں، کچھ دیہی ترقی سے، کچھ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے، کچھ چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر سے، اور کچھ ووکیشنل ٹریننگ کے ذریعے لوگوں کو ہنر سکھانے سے متعلق ہیں، تاکہ وہ روزگار کے قابل بن سکیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کو جدید حفظانِ صحت کے اصولوں کے بارے میں بھی ورکشاپس دی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔ فنڈز کی فراہمی کا طریقہ کار یہ ہے کہ مختلف بیرونی ممالک یا حکومتِ پاکستان مخصوص دورانیے کے لیے مختلف پراجیکٹس کے لیے این جی اوز سے درخواستیں مانگتی ہے۔ بہتر منصوبہ بندی اور پروپوزل کی بنیاد پر فنڈ منظور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی فنڈ سے کے آر ایس پی کو مل جائے تو یہ ادارہ پراجیکٹ دینے والے ادارے کی شرائط کے مطابق اسے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرتا ہے، گویا وہ ایک ٹھیکیدار یا نفاذ کنندہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ مختلف علاقوں میں موجود علاقائی رجسٹرڈ تنظیموں کے ذریعے یا جہاں تنظیم موجود نہ ہو وہاں نئی تنظیم بنا کر عوامی اشتراک سے اسکیمیں مکمل کراتا ہے، تاکہ بدعنوانی کے امکانات کم ہوں اور کام بہتر معیار کے ساتھ ہو۔ علاقائی تنظیمیں اپنے گاؤں کے مسائل حل کرتی ہیں، کبھی بھی کسی فرد سے اس کے مذہب یا مسلک کے بارے میں سوال نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی مذہب کی تبلیغ یا ترجیح کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے۔ پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد لوگ اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں حکومتی فنڈز بہت محدود ہیں، اور اگر کبھی فنڈ مل بھی جائے تو ٹھیکیداری نظام میں اتنی بے ضابطگیاں ہیں کہ اصل کام پر بیس فیصد بھی خرچ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف، بعض لوگ صرف "آغا خان" کے نام کی وجہ سے اس ادارے سے فائدہ اٹھانے کو حرام کہتے ہیں اور اسی وجہ سے کچھ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بھی ڈالتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے سے فنڈ لے کر اپنے علاقے کا کوئی مسئلہ حل کرنا شرعاً جائز ہے؟ میں خود بھی ایک دوسرے این جی او میں کام کرتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اے کے آر ایس پی کے پراجیکٹس میں آغا خان کا کوئی ذاتی پیسہ یا مذہبی مداخلت نہیں ہوتی۔ نہ ہی اس میں ہمارے عقیدے کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، کیونکہ فنڈ دینے والے ادارے واضح طور پر پابند کرتے ہیں کہ مذہب، رنگ، نسل یا مسلک کی بنیاد پر کوئی تفریق قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ یہ پراجیکٹس تین سے پانچ سال کی مدت کے ہوتے ہیں جن میں کام کی نگرانی، میٹنگز اور رہنمائی سب کچھ علاقائی تنظیمیں خود کرتی ہیں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ان پراجیکٹس سے فائدہ اٹھانا درست ہے یا نہیں؟
عموماآغاخانی اپنے باطل عقائد ونظریات کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج اور مسلمانوں سے الگ ایک مستقل فرقہ ہے،اور عام طور پر غیر مسلموں کی رفاہی تنظیمیں اپنے باطل عقائد اور نظریات کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کے لئے اس طرح کے تعاون کرتی ہیں ؛تاکہ سادہ لوح مسلمان ان کے تعاون سے متاثر ہوکر ان کے مذہب کی طرف مائل ہوں ؛لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر"اے کے آر ایس پی" Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP) سے امداد لینے میں موجودہ وقت میں یا آئندہ زمانے میں دینی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو تو ان سے امداد لینا جائز نہیں ہاں اگر "اے کے آر ایس پی" Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP) سے امداد لینے کی صورت میں دینی اعتبار سے نقصان کا غالب اندیشہ نہ ہو اور ان سے امداد لینے میں مسلمانوں کی مصلحت ہو تو پھر ان سے امداد لینا اور ان کے پراجیکٹس سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا، بہر صورت پرہیز بہتر ہے، تا کہ ایک باطل نظریات والے فرقے کی ترویج نہ ہو اور مسلمانوں کے دلوں میں ان سے محبت پیدا نہ ہو ورنہ آخرت میں تباہی ہو گی، غیر مسلموں سے دوستی اللہ کو پسند نہیں ہے۔
أحکام القرآن' للجصاص میں ہے:
"و في هذه الآیة دلالة علی أنه لاتجوز الاستعانة بأهل الذمة في أمور المسلمین من العمالات و الکتبة."
(آل عمران، باب الاستعانة بأهل الذمة، ج: 2، ص: 47، ط: دار الكتب العلمية)
التفسير المنير للزحيلي ميں ہے:
"وقد قال أبو حنيفة والشافعي: لا بأس بالاستعانة بالمشركين على المشركين، إذا كان حكم الإسلام هو الغالب، وإنما تكره الاستعانة بهم إذا كان حكم الشرك هو الظاهر."
(سورة التوبة، ج:10، ص:163، ط: دار الفكر المعاصر - دمشق)
شرح مختصر الطحاوي للجصاص ميں هے:
"وأما إذا كان حكم الإسلام هو الظاهر، فإنما جازت الاستعانة بالكفار."
(كتاب السير والجهاد، ج:7، ص:192، ط: دار البشائر الإسلامية)
چناں چہ تکملہ فتح الملہم میں ہے:
"والذي یتخلص من مجموع الروایات أنّ الأمر في الاستعانة بالمشرکین موکول إلی مصلحة الإسلام والمسلمین، فإن کان یؤمن علیهم من الفساد، وکان في الاستعانة بهم مصلحة فلا بأس بذلك إن شاء اللہ إذا کان حکم الإسلام هو الظاهر، و یکون الکفار تبعًا للمسلمین، و إن کان للمسلمین عنهم غنی أو کانوا هم القاد ة و المسلمون تبعًا لهم أو یخاف منهم الفساد فلایجوز الاستعانة بهم."
(ج:3، ص:269)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101473
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن