
آج کل پاٹھے کو ایک انجکشن لگایا جاتا ہے جس سے وہ افزائشِ نسل کے قابل نہیں رہتا۔ اس انجکشن کا لگوانا کیسا ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر جانور کو موٹا اور فربہ بنانے یا کسی منفعت کی نیت سے افزائش نسل ختم کرنے والا اٹیکہ لگایا جائے (خصی کیا جائے) جس کی وجہ سے وہ افزائش نسل کے قابل نہ رہے تو یہ جائز ہے، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں، البتہ اگر کسی منفعت کی خاطر نہ کیا جائے، تو جانور کو بے جا اذیت دینے سے اجتناب کیا جائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) جاز (خصاء البهائم) حتى الهرة، وأما خصاء الآدمي فحرام قيل والفرس وقيدوه بالمنفعة وإلا فحرام. قال ابن عابدین: (قوله وقيدوه) أي جواز خصاء البهائم بالمنفعة وهي إرادة سمنها أو منعها عن العض بخلاف بني آدم فإنه يراد به المعاصي فيحرم."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6، ص: 388، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101224
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن