بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

افیون کی کاشت کے لیے زمین اجرت پر دینے کا حکم


سوال

ہماری غیر آباد زمین ہے۔ اس کو آباد کرنے کے لیے تقریبا 55لاکھ روپےلگیں گے۔ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔

اب بعض لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں یہ زمین 3 سال کےلیے دے دیں، ہم اس میں افیون کی پیداوار کریں گے ، بور کریں گے ، شمسی لگائیں گے، ہم تین سال میں آپ کو کچھ نہیں  دیں گے۔

پھر تین سال بعد آباد کی ہوئی زمین آپ کو دیں گے ، بور وغیرہ بھی آپ کا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ ایسا معاملہ کرنا جائز ہے۔؟

اسی طرح اگر ہم اپنی زمین کو بیچ دیں کیوں کہ ہمارے قریب کی زمین میں لوگ افیون کی پیداوار کرتے ہیں اور وہ اس میں  افیون کی پیداوارکریں گے، تو کیا  ہمارا زمین بیچنا درست ہوگا یا نہیں؟

جواب

مذکورہ طریقہ پر زمین کرایہ پر دینا کہ 3 سال کے لیے کرایہ دار زمین لیں گے اور اس پر کاشت کریں اور 3 سال میں کوئی کرایہ نہیں دیں گے بلکہ 3  سال بعد آباد زمین واپس کریں اور اس کے ساتھ بور اور شمسی بھی زمین کے مالک کی ہوگی ، اس طرح کرایہ داری کا معاملہ کرنا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں تیسرے سال کے  بعد زمین پر موجود فصل کو اجرت بنایا ہے جبکہ تیسرے سال کتنی فصل ہوگی وہ مجہول ہے۔

نیز واضح رہے کہ  افیون  کا استعمال  نشہ کے لیے ناجائز اور حرام ہے ، دوا کے طور پر اس کا استعمال  جائز  ہے لہذا جب فی الجملہ اس کا جائز استعمال ہے تو اس کاکاشت کرنا، اس کی تجارت کرنا اور اس کی کاشت کے لیے کسی کو اجرت پر زمین دینا جائز ہے، لہذا  افیون  کی کاشت کے لیے اپنی زمین متعین اجرت پر دینا (مثلا فی ایکڑ پچاس ہزار روپے یا ایک لاکھ روپے) جائز ہے ، البتہ  جہاں حکومت کی طرف سے اس کی کاشت پر باپندی ہو، وہاں افیون کی کاشت کے لیے کرایہ پر دینا بھی جائز نہیں ہوگا۔

تاہم سائل کے لیے اپنی زمین کسی دوسرے شخص کو بیچنا مطلقا جائز ہوگا، چاہے وہ سائل سے خرید کر افیون اگائے یا کوئی اور چیز اگائے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل. قال المصنف .........قلت: وفي طلاق البزازية: وقال محمد ما أسكر كثيره فقليله حرام، وهو نجس أيضا 

(قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.

ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية.......................(قوله وقال محمد إلخ) أقول: الظاهر أن هذا خاص بالأشربة المائعة دون الجامد كالبنج والأفيون، فلا يحرم قليلها بل كثيرها المسكر، وبه صرح ابن حجر في التحفة وغيره، وهو مفهوم من كلام أئمتنا لأنهم عدوها من الأدوية المباحة وإن حرم السكر منها بالاتفاق كما نذكره، ولم نر أحدا قال بنجاستها ولا بنجاسة نحو الزعفران مع أن كثيره مسكر، ولم يحرموا أكل قليله أيضا، ويدل عليه أنه لا يحد بالسكر منها كما يأتي، بخلاف المائعة فإنه يحد، ويدل عليه أيضا قوله في غرر الأفكار: وهذه الأشربة عند محمد وموافقيه كخمر بلا تفاوت في الأحكام، وبهذا يفتى في زماننا اهـ فخص الخلاف بالأشربة، وظاهر قوله بلا تفاوت أن نجاستها غليظة فتنبه، لكن يستثنى منه الحد فإنه لا يجب إلا بالسكر، بخلاف الخمر. والحاصل أنه لا يلزم من حرمة الكثير المسكر حرمة قليله ولا نجاسته مطلقا إلا في المائعات لمعنى خاص بها.أما الجامدات فلا يحرم منها الكثير المسكر، ولا يلزم من حرمته نجاسته كالسم القاتل فإنه حرام مع أنه طاهرهذا ما ظهر لفهمي القاصر، وسنذكر ما يؤيده ويقويه ويشيده."

(کتاب  الاشربہ ج نمبر6 ص نمبر 455،ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن تكون الأجرة معلومة."

(کتاب الاجارۃ، باب خامس، فصل ثانی، ج:4،ص:411،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

 

"وإذا تكارى دابة إلى بغداد على أنه إن بلغ إليها فله ما يرضى من الأجرة فالإجارة فاسدة لجهالة البدل وكذلك إذا استأجرها بحكمه أو بحكم صاحب الدابة فإن قال رضائي عشرون لا يزاد على عشرين وينقص عن عشرين. كذا في المحيط."

(کتاب الاجارۃ، باب خامس، فصل ثانی، ج:4،ص:442،دار الفکر)

کفایت المفتی میں ہے:

''افیون ،چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اوران کادوامیں خارجی استعمال جائزہے،نشہ کی غرض سے ان کواستعمال کرناناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت توشراب اورخنزیرکی حرام ہے کہ ان کااستعمال خارجی بھی ناجائزہے۔''

(کفایت المفتی 9/129،ط:دارالاشاعت)

امداد الاحکام میں ہے:

"افیون کی تجارت جائز ہے کیونکہ اس کا استعمال بعض  صورتوں میں حد نشہ سے کم مقدار میں جائز ہے اور لائسنس کی وجہ سے جواز تجارت میں کچھ فرق نہ آئے گا اور کوئی شبہ ہو تو ظاہر کیا جائے۔"

(کتاب البیوع متفرقات ج نمبر 3ص نمبر409،مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704101489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں