
سوال یہ ہے کہ جامعہ ہذا افیون کی کاشت کے بارے میں جواز کا فتوی دیتا ہے، کیا یہ مطلق جواز کا فتوی ہے؟ یا پھر علاقہ اور ادوار کے مفاسد کی زیادتی کی وجہ سے مختلف ہو جاتا ہے؟ مثلاً ہمارے علاقے چمن میں آج کل اگرچہ حکومت کی طرف سے بارڈر کے بند ہونے کی وجہ سے کاروبار تھوڑا متاثر رہتا ہے، لیکن پھر بھی لوگ کھلم کھلا افیون اگانے کا کام اپنائےہوئے ہیں، اور سارا علاقہ افیون سے بھرا ہوا نظر آتا ہے، اور اس افیون کو پینے کے کچھ لوگ عادی بھی پائے جاتے ہیں، اور پھر یہ افیون افغانستان میں اسمگل بھی کی جاتی ہے۔
آیا ان مفاسد کے ساتھ ساتھ افیون اگانا جائز ہے یا نہیں؟
اور بعض لوگ اپنی افیون کی کاشت کو بچانے کے لیے حکومت کو پیسے دیتے ہیں؛ تاکہ ان کی زمین کو خراب نہ کریں، اس وجہ سے اب علاقے میں سبزی وغیرہ کی کاشت نہیں ملتی، ساری جگہیں افیون سے بھری پڑی ہیں، جس کی وجہ سے سبزی وغیرہ مہنگے داموں میں ملتی ہے، اسی طرح مزدور طبقہ بھی سب وہی کام کرتا ہے، اس کی وجہ سے اب بازار کے ریٹ پر مزدور مزدوری کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ افیون ، بھنگ اور چر س کا استعمال تداوی کےعلاوہ حرام ہے، البتہ ان میں ایک پہلو جواز انتفاع کا بھی ہے،تو یہ مالِ متقوم ہے، اور شریعت کا عمومی ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی چیز جائز اور ناجائز دونوں کاموں میں استعمال ہوتی ہو تو جائز استعمال کی نیت سے اسے تیار کرنا اور پھر فروخت کرنا شرعاً جائز ہوتاہے، لہذا بھنگ، افیون اور حشیش کا جس طرح ناجائز اور غلط استعمال ہوتا ہے، اس طرح اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہوتا ہے، یعنی ادویات میں ملانا، اور اسی بناء پر فقہائے کرام نے اس کی کاشت اور فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حلال لکھا ہے۔
لیکن چوں کہ صورت مسئولہ میں سائل نے اپنے علاقے کی جو حالت بیان کی ہے کہ وہاں پر افیون کی کاشت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ سبزی وغیرہ کی کاشت نہیں ملتی، اور وہاں پر افیون کو بطور نشہ استعما ل کرنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں، اور اسی طرح آجکل معاشرے میں اس کا عمومی استعمال منشیات کے طور پر ہوتاہے، دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ بطورِ منشیات متعارف ہے، اور لاکھوں لوگ اس کے عادی بن کر اپنی صحت اور زندگی کو داؤ پر لگاچکے ہیں، دواؤں میں اس کے استعمال کی ضرورت بھی اپنی جگہ، جب کہ اس کا متبادل حل موجود ہے کہ اس کے لیے حکومت اپنی نگرانی میں بقدرِ ضرورت اس کی کاشت کرسکتی ہے، اور کاشت کے بعد اپنی نگرانی میں ہی اسے کیمیائی عمل سے گزار کر دوا ساز کمپنیوں کو فراہم کرسکتی ہے، جب کہ عوام الناس کو اس بات کا قطعاً علم نہیں ہوتا کہ کس قدر کاشت کی ضرورت دوا کے لیے ہوگی، بلکہ اس کا تعین وتخمینہ ریاست ہی لگاسکتی ہے، اس لیے ایسی صورت میں شریعت کے عمومی مزاج ”دفع مضرت” اور ”سدالذرائع“ کو مدِ نظر رکھ کر بھنگ، افیون اور حشیش کی کاشت کرنے اور اس کی فروخت کی عمومی اجازت نہ دینے کی رائے زیادہ محتاط ہے۔
بالخصوص جب کہ حکومت کی طرف سے دواؤں کے لیے ضرورت ہونے کے باوجود اس کی عمومی کاشت پر پابندی بھی ہے، تو ایسی صورت میں موجودہ دور میں قانونی اجازت کے بغیر اس کی کاشت اور اس کی خرید و فروخت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، کیوں کہ حکومت جب مصالحِ عامہ کے پیش نظر کسی چیز کا حکم کرے یا اس سے منع کرے تو پھر اس کے مطابق عمل کرنا شرعاً بھی ضروری ہوتا ہے۔
جیسا کہ جامعہ کے سابقہ فتاویٰ ( جو کہ حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ تعالی، حضرت مولنا سید یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالی کی تصدیق سے ایک سوال کے جواب میں جاری شدہ ہیں ) میں ہے:
"واضح رہے کہ افیون، بھنگ ،چرس کا استعمال تداوی کے علاوہ حرام ہے،تداوی کے لیے استعمال جائز ہے، اور ان کی بیع و شراء صحیح ہے،کیوں کہ ان میں ایک پہلو جواز انتفاع کا بھی ہے، اور اسی بناء پر ان کی کاشت بھی جائز ہونی چاہیے اور جب ان کی بیع و شراء صحیح ہے ،اور ان میں ایک پہلو جواز انتفاع کا بھی ہے،تو یہ مالِ متقوم ہے، اورفتاوی شامی کی کتاب الغصب میں ہے"فی مال متقوم فسرہ بمباح الانتفاع شرعاً والاول تفسیرہ بمالہ قیمۃ و شرعاً"،البتہ اگر بھنگ ،چرس کی کاشت سے زمین ناقابل کاشت ہوجاتی ہے، تو ان کی کاشت نہ کی جائے،یہ ضرور واضح رہے کہ ان منشیات سے کمائی ہوئی دولت فی الجملہ خبث سے خالی نہیں ۔
اور اس کی کاشت و بیع سے جو رقم حاصل ہوگی وہ بائع کی ملک میں داخل ہوگی ،لیکن بکراھت ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم (احقر ولی حسن۔ 04 محرم 1380ھ)۔
الجواب صواب: ہاں! اگر صورت ایسی ہو کہ واقعی ان اشیاء کی کاشت سے غلہ کی اس مقدار میں کمی ہوتی ہے جس کی اس ملک کے لیے ضرورت ہے،اور بآسانی اس کی تلافی کہیں اور سے نہیں ہوسکتی ،تو ان اشیاء کی کاشت شرعاً حرام ہوگی،غذا دواء سے مقدم ہے۔ واللہ اعلم (محمد یوسف بنوری عفاللہ عنہ۔ 05 محرم 1380ھ)۔"
(رجسٹر نمبر، 1، ص:96،97، فتوی نمبر:128، سن:1380ھ)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.
(قوله :ومفادة إلخ) أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك لأنهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة، فصحة بيعها يفيد صحة بيعهما فافهم."
(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الأشربة، ج:6، ص:454، ط:سعيد)
وفیه أیضاً:
"وقال محمد ما أسكر كثيره فقليله حرام، وهو نجس أيضاولوم سكر منها المختار في زماننا أنه يحد. زاد في الملتقى: وقوع طلاق من سكر منها تابع للحرمة، والكل حرام عند محمد وبه يفتى، والخلاف إنما هو عند قصد التقوي. أما عند قصد التلهي فحرام إجماعا اهـ، وتمامه فيما علقته عليه. زاد في القهستاني: أن لبن الإبل إذا اشتد لم يحل عند محمد خلافا لهما، والسكر منه حرام بلا خلاف، والحد والطلاق على الخلاف، وكذا لبن الرماك: أي الفرسة إذا اشتد لم يحل، وصحح في الهداية حله. وفي الخزانة أنه يكره تحريما عند عامة المشايخ على قوله.
(قوله وقال محمد إلخ) أقول: الظاهر أن هذا خاص بالأشربة المائعة دون الجامد كالبنج والأفيون، فلا يحرم قليلها بل كثيرها المسكر، وبه صرح ابن حجر في التحفة وغيره، وهو مفهوم من كلام أئمتنا لأنهم عدوها من الأدوية المباحة وإن حرم السكر منها بالاتفاق كما نذكره."
(كتاب الأشربة، ج:6، ص:455، ط:سعید)
امدادالفتاویٰ میں ہے:
”تحقیق جوازکاشت افیون:
سوال:افیون کی کاشت جائزہےیانہیں؟
جواب:جائزہے۔“
(کتاب الزراعة، ج:3، ص:524، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
کفایت المفتی میں ہے:
”افیون ، چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائزہے، نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی نا جائز ہے۔“
(کتاب الحظروالاباحۃ، ج:9، ص:129، ط:دارالاشاعت)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"سوال [۷۸۰۲] : افیون کی کاشت کرنا کیسا ہے؟ نیز اس کی تجارت کے لئے کیا حکم ہے، اس کا حکم بحکم شراب ہے یا اس سے جدا ہے؟ بالتفصیل بیان فرمائیں۔
الجواب حامداً ومصلياً :افیون کا کھانا حرام ہے، اگر چہ اس کی حرمت شراب کی حرمت سے کم درجہ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اسلامی حکومت ہو تو شراب پینے والے پر حد جاری کی جاتی ہے، اور افیون کھانے والے پر حد جاری نہیں کی جاتی ہے، البتہ تعزیری سزادی جاتی ہے:ويحرم أكل البنج والأفيون والحشيشة، لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئاً من ذلك ، لاحد عليه وإن سكر ، بل يعزّر بما دون الحد شامی و در مختار۔
کاشت خشخاش کی کی جاتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ، اس کی تجارت بھی جائز ہے۔"
(باب البیع الباطل والفاسدوالمکروہ، ج:16، ص:124، ط:فاروقیہ)
جامعہ کے سابقہ فتاویٰ ( جو کہ حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ، حضرت مفتی عبد السلام رحمہ اللہ اور حضرت مفتی رضاء الحق صاحب کی تصدیق سے ایک عربی سوال کے جواب میں جاری شدہ ہیں ) میں ہے:
" ففي المسئلة المسئولة عنھا یجوز زرع الخشخاش ویجوز إتخاذ الأفیون منه وبیعھا وتجارتھا منه، لأنه یستعمل في لأدویة لکن إتخاذ السفوف للتی تسمیٰ بھروئن لایجوز بیعه، لأن فیه مضرۃ وضیاع الجسم الإنسانی، فالحاصل أن الأفیون یجوز بیعه ولکن یکرہ علی ید من یتخذ منه الھروئن، وإتخاذ الھروئن وبیعه وتجارته لایجوز، کما ذکرہ في الدرالمختار: ( وصح بیع غیر الخمر ) مما مر مفادہ صحة بیع الحشیشة والأفیون. وفي رد المحتار: ثم إن البیع وإن صح لکنه یکرہ کما في الغایة. فقط."
( رجسٹر نمبر:87، ص:150, سن 1406ھ )
الأشباہ والنظائرمیں ہے:
"الخامسة: ونظير القاعدة الرابعة قاعدة خامسة؛ وهي:"درء المفاسد أولى من جلب المصالح."
(الفن الأول: القواعد الكلية، ص:78، ط:دار الكتب العلمية)
دررالحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"درء المفاسد أولى من جلب المنافع.
أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على جلب المصلحة، فإذا أراد شخص مباشرة عمل ينتج منفعة له، ولكنه من الجهة الأخرى يستلزم ضررا مساويا لتلك المنفعة أو أكبر منها يلحق بالآخرين، فيجب أن يقلع عن إجراء ذلك العمل درءا للمفسدة المقدم دفعها على جلب المنفعة؛ لأن الشرع اعتنى بالمنهيات أكثر من اعتنائه بالمأمور بها. مثال: يمنع المالك من التصرف في ملكه فيما إذا كان تصرفه يورث الجار ضررا فاحشا."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة 30، ج:1، ص:41، دار الجیل)
وفيہ أیضاً:
"إذا تعارض المانع والمقتضي يقدم المانع أي إذا وجد في مسألة سبب يستلزم العمل بها وسبب آخر يمنع العمل يرجح المانع."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة46، ج:1، ص:52 ، دار الجيل)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ."
(كتاب القضاء، ج:5، ص:422، ط:سعید)
الاشباه والنظائر ميں هے:
"تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة."
(الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الخامسة، ص:104، ط:دار الكتب العلمية)
جامعہ کے سابق فتاویٰ ( جو کہ مفتی عبدالمجید دین پوریؒ کی تصدیق سے جاری شدہ ہے ) میں ہے:
” واضح رہے کہ افیون کی کاشت فی نفسہ جائز ہے، لیکن اگر حکومت نے مصالحِ عامہ کے پیش نظر اس کی کاشت پر پابندی لگارکھی ہو تو پھر پابندی کے مطابق عمل کرنا ضروری ہوگا۔“
( رجسٹر نمبر:437، سن 1426ھ موافق 2006ء )
تفسیر قرطبی میں ہے:
"ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة وأحسنوا إن الله يحب المحسنين
والتهلكة (بضم اللام) مصدر من هلك يهلك هلاكا وهلكا وتهلكة، أي لا تأخذوا فيما يهلككم، قاله الزجاج وغيره. أي إن لم تنفقوا عصيتم الله وهلكتم. وقيل: إن معنى الآية لا تمسكوا أموالكم فيرثها منكم غيركم، فتهلكوا بحرمان منفعة أموالكم۔۔۔۔ وقال الطبري: قوله" ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة" عام في جميع ما ذكر لدخوله فيه، إذ اللفظ يحتمله".
(سورة البقرة، ج:2، ص:363، ط: دار الكتب المصرية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100657
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن