بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

افیم ( افیون) کی کاشت کا حکم


سوال

ہمارے علاقے ضلع دکی بلوچستان میں لوگ کثیر تعداد میں افیم (opium) کی  کاشت کرتے ہیں ۔ تو کیا اسلام میں اس کی کاشت کرنا جائز ہے یا حرام ہے؟

جواب

 واضح رہے ازروئے شرع جن اشیاء کا استعمال فی نفسہ جائز ہو تو اس کا کاروبار کرنا بھی شرعاً جائز ہوتاہے، اور جن اشیاء کا استعمال ہی شرعاً ناجائز ہو تو اس کا کاروبار کرنا بھی حرام ہے، اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں”افیم“ کی  کاشت کاری  فی نفسہ  جائز ہے، کیوں کہ اس کا استعمال دوا دارو کے لیےبھی  کیا جاتا ہے، لیکن بعض لوگ اس کو نشہ کے لیے استعمال کرتے ہیں،تاہم افیم کی  کاشت کرکے دواساز کمپنیوں کے علاوہ دوسرے ایسے افراد کو فروخت کرنا مکروہ ہے جن کے بارے میں یقین یا ظن غالب  ہو کہ وہ نشہ ہی کے لئے استعمال کریں گے ۔

کفایت المفتی میں ہے:

"افیون ، چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائزہے، نشہ کی غرض سے ان کو استعمال کرنا ناجائزہے۔مگران سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے، تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی نا جائز ہے۔"

( کفایت المفتی،ج:9، ص:129، ط:دارالاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"افیون کی آمدنی سے جو زمین خریدکر اس میں کاشت کرتے ہیں اس کاشت کی آمدنی کوحرام نہیں کہا جائے گا، ایسی آمدنی سے چندہ لینابھی درست ہے اوران کے یہاں کھانا پینا بھی درست ہے"۔

(باب البیع الباطل و الفاسد و المروہ، عنوان :افیون کی تجارت اوراس کی آمدنی کاحکم،ج:16، ص:123،ط: ادارۃ الفاروق)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.

(قوله :ومفادة إلخ) أي مفاد التقييد بغير الخمر، ولا شك في ذلك لأنهما دون الخمر وليسا فوق الأشربة المحرمة، فصحة بيعها يفيد صحة بيعهما فافهم."

( كتاب الأشربة، ج:6، ص:456، ط: ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً:

"وبه علم أن المراد الأشربة المائعة، وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية."

(باب حد الشرب، مطلب في البنج والأفيون والحشيشة، ج:4، ص:42، ط:ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع  میں ہے:

"لأنّ طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟"

(كتاب السير، فصل فى أحكام البغاة، ج:9، ص :453، ط:دارالحديث. القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144605101944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں