بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1445ھ 22 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایفیلییٹ مارکیٹنگ (Affilliate marketing) کا کیا حکم ہے؟


سوال

Affiliate marketing کیا چیز ہے؟ Affiliate marketing جائز ہے یا نہیں؟

جواب

دنیا میں رائج مختلف قسم کے آن لائن اسٹورز یا برینڈز پر مختلف کمپنیوں کی پروڈکٹس فروخت ہوتی ہیں اور ہر پروڈکٹ کا ایک لنک ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص اس لنک کو کاپی کرکے دوسری جگہ مثلاً اپنی سوشل سائٹس پر بھیجے اور پھر کوئی شخص اس لنک کو کھول کر ایمازون سے وہ پروڈکٹ خرید لے تو لنک بھیجنے والے کو اس کا کمیشن دیا جاتا ہے ، کیوں کہ اس  کے بھیجے گئے لنک کے ذریعہ خردیدوفروخت ہوتی ہے یہ ایفیلییٹ مارکیٹنگ کہلاتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں ایسی ویب سائٹ پر فروخت ہونے والی جائز  اشیاء کی قیمتوں میں سے مخصوص تناسب کے عوض  تشہیری اور ترویجی مہم میں حصہ لینا جائز ہےاور اس  پر فیصد کے اعتبار سے کمیشن مقرر کرکے  کمیشن لینے میں کوئی مضائقہ نہیں،  شرعاً یہ  کام دلالی کے حکم میں ہے، جس کی اجرت لینا جائز ہے ،البتہ  یہ ضروری ہے کہ  اس میں شرعًا کوئی ایسا مانع نہ ہو جس کی وجہ سے اصلاً بیع ہی ناجائز ہوجائے جیسے مبیع کاحرام ہونا،لہذا صرف ان ہی مصنوعات کی تشہیر کی جائے جو اسلامی نقطۂ نظر سے حلال ہو ں، جوچیزیں  شرعاًحرام ہیں ان کی تشہیر کرکے پیسہ کمانا جائز نہیں ہے ، اسی طرح جس کمپنی کی مصنوعات  کی  تشہیر کرنا ہو اس  کمپنی کی طرف سےمصنوعات کے حقیقی  اوصاف، قیمت  وغیرہ  واضح طور پر درج ہو ،سامان نہ ملنے یا غبن ہوجانے کی صورت میں مصنوعات خریدنے کے لئےجمع کی گئی رقم کی  واپسی کی ضمانت دی گئی ہو ،مزید یہ کہ آڈر کرنے کے بعد مقررہ تاریخ تک مصنوعات نہ ملنے پر یا زیادہ تاخیر ہونے کی صورت میں کسٹمر کو  آڈر کینسل کرنے کا بھی اختیارہو ،نیز آن لائن تجارت کرنے والےایسے ادارے اور  افراد  بھی ہیں جن کے یہاں مصنوعات موجود نہیں ہوتیں، محض اشتہار ات ہوتے ہیں اس لئے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اس کمپنی کے پاس مصنوعات کا حقیقی وجود ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية."

"(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين."

(كتاب البيوع، فرع، ج:4، ص:560، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144412101471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں