
میرا بزنس ماڈل مندرجہ ذیل ہے:
1. سب سے پہلے میں ہول سیلر یا فیکٹری سے سو (100) عدد شرٹس اپنے پیسوں سے نقد خرید لوں گا۔ پیسہ دیتے ہی وہ تمام شرٹس میری ملکیت میں آ جائیں گی۔ ان شرٹس کو میں نے ہول سیلر کے پاس نہیں چھوڑا بلکہ وہاں سے اٹھا لیا ہے۔
2. ان شرٹس کو میں نے کسی پروفیشنل کوریئر کمپنی مثلاً ''TRAX'' یا ''PostEx'' کےگودام میں رکھوا دیا ہے۔ کوریئر کمپنی کاگودام ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں وہ میرا مال سنبھال کر رکھتے ہیں اور مجھ سے اس کا ماہانہ کرایہ لیتے ہیں۔ وہ کمپنی میرے ایجنٹ (نمائندہ )کے طور پر کام کرتی ہے ؛اس لیے وہاں مال کا ہونا میرا شرعی قبضہ ہی مانا جائے گا؛ کیونکہ وہ مال ان کی ملکیت نہیں بلکہ میری ملکیت ہے۔
3. جب مال میرے گودام میں پہنچ جائے گا اس کے بعد میں ان کی تصویریں اپنی ویب سائٹ پر لگاؤں گا اور ads(اشتہار) چلاؤں گا۔ میں صرف وہی مال بیچوں گا جو پہلے سے میرےگودام میں موجود ہے۔گاہک ویب سائٹ پر صرف آرڈر کی درخواست کرے گا، سودا تب تک پکا نہیں ہوگا جب تک مال اس تک پہنچ نہ جائے۔
4. جب کوئی گاہک آرڈر دے گا تو کوریئر کمپنی والے میرے گودام سے وہی شرٹس نکال کر پیک کریں گے اور میرے برانڈ(تجارتی نام) کا نام لگا کرگاہک تک پہنچا دیں گے۔ یہ سارا کام وہ میری ہدایت پر کریں گے؛ کیونکہ میں انہیں اس کام کے پیسے دیتا ہوں۔ گاہک مال ملنے پر کیش آن ڈلیوری ( سامان وصول کرتے وقت رقم ادا کرنا) ادا کرے گا۔
5. سپلائر سے مال خریدنے کے بعد سارا رسک( خطرہ) میرا ہے۔ اگر راستے میں مال چوری ہو جائے یا گاہک واپس کر دے، تو وہ مال واپس سپلائر کے پاس نہیں جائے گا بلکہ میرے گودام میں آئے گا اور میری ہی ملکیت رہے گا۔ میں سپلائر سے پیسے واپس نہیں مانگوں گا بلکہ وہ مال کسی دوسرے گاہک کو بیچوں گا۔کوریئر کمپنی میرے ریٹرن آئے ہوئے مال کو بھی محفوظ طریقے سے سنبھال کر رکھے گی جب تک وہ دوبارہ بک نہ جائے۔
وضاحت
اس پورے طریقے میں، میں نے پہلے مال خریدا ہے ،پھر اس پر قبضہ کیا ہے اور پھر اسے بیچنا شروع کیا ہے۔ نقصان کا خطرہ بھی میرا ہےکیا میرا نفع شرعی طور پر حلال ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کسی کمپنی یا فیکٹری سے مال خرید کر قبضہ میں لاکر کسی کوریئر کمپنی کے گودام میں رکھواتا ہے ، اور وہاں سے سوال میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق سامان فروخت کرتا ہے تو مذکورہ طریقے کے مطابق کاروبار جائز ہوگا اور نفع کمانا حلال ہوگا۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعاما، فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس: وأحسب كل شيء مثله."
ترجمہ:”آپ ﷺنے فرمایا :جو شخص غلہ خریدے،تو اسے آگے نہ بیچےجب تک کے اس کو پورا وصول نہ کرلے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ ہر چیز اسی طرح ہے۔“
(كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، ج:3، ص:1159، رقم:1525، ط:دار إحياء التراث العربي)
مرقاة المفاتيح میں ہے:
"وعن ابن عباس قال: أما الذي نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم فهو الطعام) أي جنس الحبوب (أن يباع حتى يقبض) بصيغة المجهول قال ابن عباس ولا أحسب) بكسر السين وفتحها أي لا أظن (كل شيء إلا مثله) أي مثل الطعام في أنه لا يجوز للمشتري أن يبيعه حتى يقبضه. قال ابن الملك: والأظهر أنه من قول ابن عباس. (متفق عليه)."
(كتاب البيوع، باب المنهي عنها من البيوع، ج:6، ص:67، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم (نهى عن بيع ما لم يقبض).''
(کتاب البیوع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5، ص:180، ط:دارالکتب العلمیة)
تبیین الحقائق میں ہے:
"قال رحمه الله (لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام (إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه) رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."
(کتاب البیوع، باب التولية، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج:4 ص:80، ط: رشیدیه)
فتح القدیر میں ہے:
"ومن اشتری شیا مما ینقل ویحول لم یجزلە بیعه حتی یقبضه لأنه عليه السلام نھی عن بیع مالم یقبض ولأن فیه غررانفساخ العقد علی اعتبارالھلاك ...ثم علل الحدیث (لأن فیه غررانفساخ العقد) علی اعتبارھلاك المبیع قبل القبض فیتبین حینئذ أنە باع ملك الغبر بغیر إذنە وذلك مفسد للعقدء وفی الصحاح أنە صلی الله عليه وسلم نھی عن بیع الغرر."
(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشتری شیئا مما ینقل ویحول، ج:6، ص:512-510، ط:دار الفکر)
القواعد والضوابط الفقهيہ في الضمان المالي میں ہے:
"وأما قاعدة (الغرم بالغنم):فإنها وإن جاءت على عكس قاعدة (الخراج بالضمان) - أي الغنم بالغرم - في اللفظ إلا أن المعنى فيهما متفق، وقد ذكر العلماء لهذه القاعدة صيغا كلية ونصوصا فقهية أسوقها كما يلي:
1- الغرم بالغنم
2- من ملك الغنم كان عليه الغرم''
(المبحث الأول: قاعدة: الخراج بالضمان وقاعدة: الغرم بالغنم، المطلب الأول: في صيغ القاعدة، ص: ٢٠٣ - ٢٠٤، ط: دار كنوز إشبيلية للنشر والتوزيع، السعودية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) : أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه."
(كتاب الوكالة، فصل في الوكيلان هل ينفرد أحدهما بالتصرف فيما وكلا به، ج : 6،ص: 34، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101516
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن