بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 رمضان 1442ھ 06 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف میں غسل کرنے کا حکم


سوال

اعتکاف  میں غسل کرسکتے  ہیں جب کہ غسل واجب نہ ہو؟

جواب

معتکف پر اگر غسلِ جنابت واجب ہو گیا ہو تو  معتکف کا مسجد سے نکل کر غسل کرنا جائز  ہی نہیں،  بلکہ ضروری ہے، لیکن جمعے کے غسل یا ٹھنڈک کے لیے غسل کی نیت سے مسجد سے باہر نکلنا معتکف کے لیے جائز نہیں ہے، اگر صرف اس غرض سے نکلے گا تو اعتکافِ مسنون فاسد ہوجائے گا،  ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جب پیشاب کا تقاضا ہو تو پیشاب سے فارغ ہوکر غسل خانے میں دو چار لوٹے بدن پر ڈال لے، جتنی دیر میں وضو ہوتا ہے اس سے بھی کم وقت میں بدن پر پانی ڈال کر آجائے، الغرض غسل کی نیت سے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں، طبعی ضرورت کے لیے جائیں تو بدن پر پانی ڈال سکتے ہیں۔  لیکن اس دوران  صابن وغیرہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے، کیوں کہ اس میں وضو سے زیادہ وقت صرف ہوگا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مسنون اعتکاف میں معتکف کا ٹھنڈک حاصل کرنے یا صفائی ستھرائی کے لیے مسجد سے باہر نکل کر  غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اگر گرمی کی وجہ سے  غسل کی شدید ضرورت ہوتو  مسجد میں بڑا  برتن  (بڑا ٹب وغیرہ) رکھ کر اس میں بیٹھ کر  کپڑوں سمیت  اس طور پر غسل کرلینا چاہیے کہ  استعمال کیا ہوا پانی  مسجد میں بالکل نہ گرے، یا تولیہ بھگو کر نچوڑ کر  بدن پر مل لے، اس سے بھی  قدرے ٹھنڈک حاصل ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں  مسجد انتظامیہ عارضی غسل خانہ کا انتظام بھی کرسکتی ہے کہ اسے مسجد کے اندر رکھ دیا جائے اور پانی مسجد سے باہر گرے، لیکن شدید ضرورت کے بغیر اس کے استعمال کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔ اور جہاں مسجد کے آداب اور تقدس کے پامال ہونے کا اندیشہ ہو  وہاں پورٹ ایبل واش روم سے بھی اجتناب کیا جائے۔

 الفتاوى الهندية (1/ 212):

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلًا ونهارًا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدًا أو ناسيًا، هكذا في فتاوى قاضي خان".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208201185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں