
آج کل حمد و نعت پیش کی جاتی ہیں ، خاص کر وہ نعت جو سٹوڈیو میں Record شدہ ہو تو اس کی خوبصورتی اور مزید موثر کرنے کے لیے اصل آواز کے پیچھے (background) میں humming vocals (یعنی گنگنا کر منہ سے اس حمد و نعت ہی کے طرز میں آواز نکالنا یا recorded کلام کی اصل آواز کو Software میں ڈال کر Pitch اور bass میں تبدیلی کرکے اس طرحedit کرنا کہ وہ آواز ایک طرح کی hamming بن جائے ) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تو اس humming vocals کو حمد و نعت میں استعمال کر نا کیسا ہے ؟
موسیقی MUSIC یعنی موسیقی پیدا کرنے کے لئے آلات کا استعمال کرنا توحرام ہے ، لیکن آج کل کے ترقیاتی دور یں ایک نئی قسم آچکی ہے جسے beat boxing کہا جاتا ہے، جس میں صرف منہ اور گلے کا استعمال کرکے بعینہ آلات موسیقی والی آواز میں نکال جاتی ہیں، جس سے Music والی دھن پیدا ہو جاتی ہے، تو اس کا سننا اور گانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ وہ غنا (سُر) جو آلاتِ موسیقی کے ذریعہ پیدا کی جائے اس کا سننا تو احادیث میں صراحتاً ممنوع قرار دیا گیا ہے، مختلف احادیث میں موسیقی سننے پر سخت وعیدیں آئی ہے، اسی وجہ سے فقہاء نے (بھی) موسیقی اور اس کے سننے کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح گانے کے طرز پر نعت/ نظم وغیرہ بنانا،پڑھنا اور سننا اور سب منع ہے، جان بوجھ کر اپنے ارادۂ و اختیار سے کسی معروف گانے کے ہم وزن قافیہ، حمدیہ یا نعتیہ اشعار بناکر گانے کی طرز پر پڑھنا، یا بنانا، جس سے عام لوگوں کا ذہن اس گانے کی طرف جائے، یا لہجے میں فن ِموسیقی کے قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے ساتھ اشعار پڑھنا یا بنانا،حمد و نعت کی بے ادبی اوراس کی شان کے خلاف ہے، اور چوں کہ ایساکرنے میں فاسق لوگوں کے ساتھ مشابہت بھی ہے، اس لیے ایسا کرنا اوربھی زیادہ قبیح ہے۔ نیز چوں کہ موسیقی ایک ایسے فن کو کہتے ہے جس کے ذریعے گانے میں سُر نکالنے کے احوال، اور سُروں کی موزونیت کے احوال، اور آوازوں کو ماہرانہ انداز میں ترتیب دینے کے احوال، اور راگ کے احوال سے بحث کی جاتی ہے، چناں چہ وہ موسیقی جو محض منہ کی آوازوں کو ماہرانہ انداز میں ترتیب دینےسے پیدا کی جائے، جس میں کسی آلہ کو استعمال نہ کیا گیا ہو لیکن آواز اُسی موسیقی جیسی ہو جو آلہ کی مدد سے پیدا کی جاتی ہے، اس طرح کی موسیقی اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہائے متقدمین کے زمانہ میں نہیں تھی کیوں کہ اس کی ایجاد انیسویں صدی میں ہوئی ہے،چوں کہ ایسی موسیقی کو بھی ماہرینِ فن نے موسیقی کی ایک قسم کے طور پر ذکر کیا ہے اور شریعتِ مطہرہ میں آلاتِ موسیقی بذاتِ خود مقصود نہیں ہیں، بلکہ آواز مقصود ہے، لہذاموسیقی جیسی آواز خواہ کسی بھی طرح سے پیدا ہو، اس طرح کی آواز نکالنا اور ان آوازوں کا سننا شرعاً ناجائز ہوگا۔
لہٰذا اگر کسی حمد و نعت کے پس منظر (background) میں اس طرح کی humming vocals (یعنی منہ کے ذریعے گنگنانے سے ایسی دھن پیدا کی گئی) ہو جس سے اس حمد و نعت میں موسیقی کے شامل ہونے کا گمان ہوتا ہو یا وہ حمد و نعت سننے سے موسیقی پر مشتمل گانے سننے کا گمان ہوتا ہو تو اس طرح حمد و نعت میںhumming vocals شامل کرنا بھی ناجائز ہے اور ایسی حمد و نعت پڑھنا و سننا بھی ناجائز ہے۔
اسی طرح حمد و نعت میں beat boxing شامل کرنا (یعنی منہ سے ایسی آوازیں نکال کر محفوظ کرنے کے بعد نعت میں شامل کرنا جو آوازیں آلاتِ موسیقی کی آوازوں کے مشابہہ ہوں) جائز نہیں ہیں، لہذا ایسی حمد ونعت یا نظم جس کے پسِ پشت (بیک گراؤنڈ میں) ایسی اوازیں سنائی دیں جو آلاتِ موسیقی سے نکلنے والی آواز کے مشابہہ ہو (خواہ وہ آوازیں حقیقۃً آلاتِ موسیقی سے ہی نکلی ہوں یا منہ سے نکالی گئی ہوں) ایسی حمد ونعت یا نظم کا پڑھنا اور اس کا سننا ، از روئے شرع ناجائز ہے۔ نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ کوئی بھی حمد ونعت یا نظم اگر کسی بھی جان دار کی تصویر پر مشتمل ہو تو اس میں تصویر سازی کا گناہ بھی ہوگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع ، رواه البيهقي في " شعب الإيمان. وعن نافع رحمه الله قال : كنت مع ابن عمر في طريق فسمع مزماراً، فوضع أصبعيه في أذنيه، وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر، ثم قال لي بعد أن بعد : يا نافع هل تسمع شيئاً ؟ قلت : لا، فرفع أصبعيه عن أذنيه قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوت يراع، فصنع مثل ما صنعت . قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيراً . رواه أحمد وأبو داود."
(کتاب الآداب، باب البیان و الشعر، ج: 3، ص: 1355، ط: المتکب الاسلامی)
ترجمه: "حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گانا دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ اور حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ راستے میں جارہا تھا، انہوں نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ایک طرف ہوکر چلنے لگے، دور ہوجانے کے بعد مجھ سے کہا :اے نافع کیا تم کچھ سن رہے ہو؟ میں نے کہا : نہیں، انہوں نے کان سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہا تھا،نبی کریم ﷺ نے بانسری کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا جیسا میں نے کیا۔حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا۔"
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ميں هے:
"وعن نافع رضي الله عنه قال: كنت مع ابن عمر في طريق، فسمع مزمارا، فوضع أصبعيه في أذنه وناء) : بهمز بعد الألف أي: بعد (عن الطريق إلى الجانب الآخر) أي: مما هو أبعد منه (ثم قال لي: بعد أن بعد) : بفتح فضم أي: صار بعيدا بعض البعد عن مكان صاحب المزمار (يا نافع! هل تسمع شيئا؟) أي: من صوت المزمار (قلت: لا، فرفع أصبعيه من أذنيه، قال) : استئناف بيان وتعليل بالدليل (كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوت يراع) : بفتح أوله أي: قصب (فصنع مثل ما صنعت) أي: من وضع الأصبعين في الأذنين فقط، أو جميع ما سبق من البعد عن الطريق ومراجعة السؤال والله أعلم. (قال نافع: وكنت إذ ذاك صغيرا) : ولعل ابن عمر أيضا كان صغيرا فيتم به الاستدلال والله أعلم بالحال، مع أنه قد يقال إنه أيضا كان واضعا أصبعيه في أذنيه، فلما سأله رفع أصبعيه فأجاب وليس حينئذ محذور، فإنه لم يتعمد السماع، ومثله يجوز للشخص أن يفعل أيضا بنفسه إذا كان منفردا، بل التحقيق أن نفس الوضع من باب الورع والتقوى ومراعاة الأولى، وإلا فلا يكلف المرء إلا بأنه لم يقصد السماع لا بأنه يفقد السماع والله أعلم."
(كتاب الآداب، باب البیان والشعر،7/ 3024، ط:دار الفكر، بيروت)
مسلم شریف کی شرح الکوکب الوہاج میں ہے:
"فأما ما ابتدعه الصوفية اليوم من الإدمان على سماع المغاني بالآلات المطربة فمن قبيل ما لا يختلف في تحريمه."
(کتاب الصلاۃ، باب: الفرح واللعب بما يجوز في أيام العيد،ج:10، ص:412، ط:دار المنهاج)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير."
(کتاب اللباس، الفصل الثانی، ج: 7، ص: 2782، ط: دار الفکر)
البحر الرائق میں ہے:
"استماع صوت الملاهي حرام كالضرب بالقصب وغيره قال عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر وهذا خرج على وجه التشديد لا أنه يكفر."
(کتاب الکراہیة، ج: 8، ص: 215، ط: دار الکتاب الاسلامی)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"اختلفوا في التغني المجرد قال بعضهم إنه حرام مطلقا والاستماع إليه معصية وهو اختيار شيخ الإسلام ولو سمع بغتة فلا إثم عليه ومنهم من قال لا بأس بأن يتغنى ليستفيد به نظم القوافي والفصاحة ومنهم من قال يجوز التغني لدفع الوحشة إذا كان وحده ولا يكون على سبيل اللهو وإليه مال شمس الأئمة السرخسي."
(کتاب الکراہیة، الباب السابع عشر فی الغناء و اللهو و سائر المعاصی و الامر بالمعروف، ج: 5، ص: 351، ط: رشیدیة)
الموسوعة الفقهيةالكويتية میں ہے:
"وأما علم الموسيقى: فهو علم رياضي يعرف منه أحوال النغم والإيقاعات، وكيفية تأليف اللحون، وإيجاد الآلات."
(المادة:علم، ج:30، ص:293، ط:اميرحمزه كتب خانه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100004
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن