
ایسے وقت تبلیغ میں چار ماہ لگانا کیسا ہے جب جوان بیوی اور بچے گھر میں ہوں،اور فتنے کا خطرہ ہو کہ گھر میں نوجوان دیور بھی ہواور بچوں کے ساتھ نہ رہنے سے غلط صحبت میں پڑنے کا اندیشہ بھی ہو؟
واضح رہے کہ تبلیغ دین کا کام فرضِ کفایہ ہے، یعنی اگر کچھ لوگ اس کام کو انجام دے دیں تو باقی لوگوں کی طرف سے ذمہ داری ادا ہو جائے گی۔لیکن بیوی بچوں کا خیال رکھنا، ان کی کفالت کرنا اور انہیں فتنوں سے بچانا ہر شخص پر لازم اور شرعی ذمہ داری ہے۔
حدیث شریف میں آیا ہے:
"تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا (ماتحت) کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" (بخاری و مسلم)
البتہ مروجہ تبلیغی جماعت سے منسلک ہونا نہ فرض ہے، اور نہ ہی واجب ہے،تاہم مذکورہ طریقہ کار کے مطابق تبلیغ کا کام مفید ہے۔لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں اگر گھر میں جوان بیوی ہو اور کوئی محرم موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں بیوی کے ساتھ رہنا، اس کی دیکھ بھال کرنا اور اس کی ضروریات پوری کرنا ، اور بچوں کی تربیت کا خیال رکھنا زیادہ لازم ہے ، تبلیغی جماعت کے بزرگوں اور اکابرین کی ہدایات بھی یہی ہیں کہ تبلیغی سفر میں جانے سے پہلے اپنے گھر والوں کے تمام حقوق کا انتظام کر کے اور گھریلو امور اور حالات کو سامنے رکھ کر پھر تبلیغی سفر میں جانا چاہیے،لہذا اگر واقعۃً صورت حال ایسی ہو جو سوال میں لکھی گئی ہے تو اس صورت میں مذکورہ شخص کا گھر میں رہنا لازم ہے ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ."(سورة آل عمران:104)
"أحكام القرآن للجصاص" میں ہے:
"قال الله تعالى: ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر قال أبوبكر قد حوت هذه الآية معنيين أحدهما وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والآخر أنه فرض على الكفاية ليس بفرض على كل أحد في نفسه إذا قام به غيره لقوله تعالى ولتكن منكم أمة وحقيقته تقتضي البعض دون البعض فدل على أنه فرض على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين ومن الناس من يقول هو فرض على كل أحد في نفسه ويجعل مخرج الكلام مخرج الخصوص في قوله ولتكن منكم أمة مجازا كقوله تعالى ليغفر لكم من ذنوبكم ومعناه ذنوبكم والذي يدل على صحة هذا القول أنه إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين كالجهاد وغسل الموتى وتكفينهم والصلاة عليهم ودفنهم ولو لا أنه فرض على الكفاية لما سقط عن الآخرين بقيام بعضهم به."
(آل عمران، باب فرض الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، مطلب: في أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض كفاية، ج:2، ص:38، ط:دار الكتب العلمية)
عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے:
"حدثنا بشر بن محمد المروزي قال أخبرنا عبد الله قال أخبرنا يونس عن الزهري قال أخبرنا سالم بن عبد الله عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كلكم راع. وزاد الليث قال يونس كتب رزيق بن حكيم إلى ابن شهاب وأنا معه يومئذ بوادي القري هل ترى أن أجمع ورزيق عامل على أرض يعملها وفيها جماعة من السودان وغيرهم ورزيق يومئذ على أيلة فكتب ابن شهاب وأنا أسمع يأمره أن يجمع يخبره أن سالما حدثه أن عبد الله بن عمر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول كلكم راع وكلكم مسؤل عن رعيته الإمام راع ومسؤل عن رعيته والرجل راع في أهله وهو مسؤل عن رعيته والمرأة راعية في بيت زوجها ومسؤلة عن رعيتها والخادم راع في مال سيده ومسؤل عن رعيته قال وحسبت أن قال والرجل راع في مال أبيه ومسؤل عن رعيته وكلكم راع ومسؤل عن رعيته."
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے ہر شخص نگہبان (ذمے دار) ہے، اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ امام (حکمران) نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ خادم اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (راوی کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا:) آدمی اپنے والد کے مال کا بھی نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
(باب الجمعۃ فی القری والمدن ،ج:6،ص:189،ط:دار إحياء التراث العربي)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"جو شخص بیوی بچوں کے لیے روزانہ کماتا ہے اور ان کے حقوق واجبہ ادا کرتا ہے تو وہ تبلیغی جماعت کے لیے اس وقت جائے جب نفقہ واجبہ کے ادا کرنے کا انتظام کر دے، ان کو بھوکا روتا چھوڑ کر نہ جائے ۔تبلیغی جماعت کے لوگ جس قدر بھی اصرار کریں ان کے اصرار کی وجہ سے بغیر انتظام کئے ہرگز نہ جائے ، نہ ان سے بحث کرے بلکہ یہ کہہ دے کہ میں مقامی کام میں بھی حصہ لیتا ہوں، چلہ کے لیے نکلنے کا بھی ارادہ رکھتا ہوں اور کوشش کر رہا ہوں کہ اللہ تعالی انتظام کر دے تو نکلوں گا اور امید ہے کہ اللہ تعالی انتظام کر ہی دے گا ، پھر نکلوں گا، آپ بھی دعا کریں اوراللہ تعالی سے دعا کرتا رہے اور کوشش میں لگار ہے۔
چلوں کا موقع نہ ہو تو تین روز یا ایک روز کے لیے انتظام کر کے نکل جایا کرے ، اس کا بھی موقعہ نہ ہوتو ہفتہ میں جس جگہ کام ہوتا ہو وہاں شرکت کر لیا کرے، اس سے وہ لوگ بھی اصرار نہیں کریں گے اور کام سے بھی تعلق رہے گا، اس کا فائدہ بھی معلوم ہوگا اور بحث کرنے کا نتیجہ کچھ اچھانہیں ہوتا ،تبلیغی جماعت کے جولوگ اس طرح مجبور کرتے ہیں وہ اچھا نہیں کرتے ، ان کے متعلق مرکز میں اطلاع کرنی چاہئیے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم۔"
(تبلیغ،ج:4،ص:261،ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144609102067
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن