بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے ادارہ میں جائز ملازمت کرنے کا حکم جس کی آمدنی کا کچھ حصہ سود پر مشتمل ہو۔


سوال

میرا سوال SEBI (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) میں ملازمت کرنے کے متعلق ہے۔

​۱: ادارے کا کام: SEBI ہندوستانی حکومت (گورنمنٹ آف انڈیا) کا ایک ادارہ ہے، جو اسٹاک مارکیٹ کو ریگولیٹ کرتا ہے (نگرانی کرتا ہے)، اس کا بنیادی کام سرمایہ کاروں (investors) کو دھوکہ دہی سے بچانا، مارکیٹ کے لیے قوانین بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ مارکیٹ میں کوئی غلط کام نہ ہو۔

​۲: میرا کام: مجھے وہاں آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) ڈیپارٹمنٹ میں نوکری مل رہی ہے، میرا کام سافٹ ویئر، ڈیٹا، یا کمپیوٹر سسٹم کو سنبھالنا ہوگا، میرا کام براہِ راست حصص (shares) خریدنے، بیچنے، یا قوانین بنانے، یا سود (interest) کے لین دین سے نہیں ہوگا۔

​۳: ادارے کی آمدنی (Income) : سوال اس ادارے کی آمدنی کے متعلق ہے، SEBI کی آمدنی کے دو بڑے ذرائع ہیں (سال 24-2023 کے ڈیٹا کے مطابق) : ​پہلا ذریعہ (٪89): آمدنی کا بڑا حصہ (تقریباً ٪89.2) ’’فیس اور سبسکرپشن‘‘ سے آتا ہے۔ یہ وہ فیس ہے جو SEBI اسٹاک ایکسچینجز، بروکرز، اور کمپنیوں سے ان کو ریگولیٹ کرنے اور اپنی خدمات (services) دینے کے بدلے میں لیتی ہے۔ ​دوسرا ذریعہ (٪9): آمدنی کا ایک چھوٹا حصہ (تقریباً ٪9.3) ’’سرمایہ کاری سے ہونے والی آمدنی‘‘ (Income from Investments) سے آتا ہے، تفصیل کے مطابق یہ پیسہ SEBI اپنے جنرل فنڈ کو بینک ڈپازٹس اور بانڈز میں لگا کر حاصل کرتی ہے جو کہ سود (interest) پر مبنی ہے۔

​دریافت طلب امر (جو پوچھنا ہے) : ​ایسے ادارے میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنا جہاں میرا کام تو جائز ہے، لیکن اس ادارے کی کل آمدنی کا تقریباً 9 سے 10 فیصد حصہ سود سے آتا ہو (اگرچہ ٪89 آمدنی فیس سے ہے) کیا شرعاً جائز ہے؟ ​کیا اس ادارے سے ملنے والی تنخواہ (salary) حلال تصور کی جائے گی؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر اس ادارہ میں براہِ راست حصص کی خرید وفروخت کا کام نہیں کیا جاتا، بلکہ محض اسٹاک مارکیٹ کی نگرانی کی جاتی ہے، اور ان اداروں کو لائسنس جاری کیے جاتے ہیں جو کہ طے شدہ شرائط کے مطابق اسٹاک مارکیٹ  میں خدمات سرانجام دیتے ہوں، تو اس ادارہ میں سائل کے لیے ملازمت کرنا جائز ہوگا ۔

باقی جہاں تک آمدنی کا تعلق ہے تو مذکورہ ادارہ کی غالب  آمدنی چونکہ  حرام نہیں، اس بنا پر سائل کی تنخواہ بھی حلال ہوگی، تاہم اگر سائل کو کسی ایسے ادارہ میں نوکری مل جائے، جس کی آمدنی سود کی آمیزش نہ ہو، تو  سائل اس ادارہ سے منسلک ہوجائے، جب تک ایسی نوکری نہ ملے موجودہ ادارہ میں کام جاری رکھے۔

مرقاة شرح المشكاة میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء. رواه مسلم."

(وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) أي: النبي صلى الله عليه وسلم (هم سواء)، أي: في أصل الإثم."

(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الأول، ٥/ ١٩١٥-١٩١٦، ط: رشيدية)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام قالوا ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام."

(كتاب البيوع، الباب العشرون، ٣/ ٢١٠، ط: رشيدية)

وفيه أيضا:

"أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان ‌غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه ‌حرام، فإن كان ‌الغالب هو ‌الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن ‌الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل ‌حرام فالمعتبر ‌الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار . . . قال الفقيه أبو الليث رحمه الله تعالى اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان قال بعضهم يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من ‌حرام قال محمد رحمه الله تعالى وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا ‌حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأصحابه، كذا في الظهيرية."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر، ٥/ ٣٤٢، ط: رشيدية)

وفيه أيضا:

"آكل الربا وكاسب ‌الحرام أهدى إليه أو أضافه ‌وغالب ماله ‌حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان ‌غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط."

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر، ٥/ ٣٤٣، ط: رشيدية)

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"وفي الأشباه الحرمة تنتقل مع العلم إلا للوارث إلا إذا علم ربه.

(قوله وفي الأشباه إلخ) قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني في كتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام اهـ. وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أكلت من طعامه، ولم يكن عينه غصبا أو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من ذلك والإثم على الزوج اهـ حموي."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ٦/ ٣٨٥-٣٨٦، ط: سعيد)

فقط والله تعالى أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں