بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد دوبارہ نکاح کا طریقہ / طلاق کے بعد مرد عورت کا ایک گھر میں ساتھ رہنا


سوال

میں نے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ طلاق دی،جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’میں آپ کو طلاق دیتاہوں‘‘،اس کے بعد میری بیوی اپنی والدہ کے گھر چلی گئی،اب تک میں نے رجوع بھی نہیں کیا ،اس واقعہ کو تقریبا ایک سال سے اوپر ہوگیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ :

1۔ اگر وہ راضی ہو تو کیا میں دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرسکتاہوں یا نہیں؟دوبارہ نکاح کا کیا طریقہ ہوگا؟

2۔اگر بالفرض وہ نکاح پر راضی نہ ہو تو کیا میں اپنے بچوں کے ساتھ ان کے گھر میں الگ کمرہ میں رہ سکتاہوں؟بچے اپنی والدہ کے پاس ہیں اور انہوں نے کرایہ کا گھر لیاہوا ہے۔

یا اگر الگ کمرہ میں ان کےساتھ نہ ہو تو کیا میں ان کے پڑوس میں الگ گھر لے کر ان کے قریب رہ سکتاہوں یا نہیں ؟میری چاہت ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ یا قریب رہوں؟

جواب

1۔صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو  یہ الفاظ کہے کہ ’’میں آپ کو طلاق دیتا ہوں‘‘،توان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،جس کے بعد عدت(پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ،اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) میں سائل کو رجوع کا حق حاصل تھا،اگر سائل نے عدت میں رجوع نہیں کیا اور عدت ختم ہوگئی تو سائل کا اس بیوی سے نکاح ختم ہوگیا ہے،اب اگر دونوں دوبارہ ساتھ زندگی گزارنے پر راضی ہوں تو از سر نو نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

 دوبارہ نکاح  کے لئے وہی طریقہ اور احکامات ہیں جو پہلی دفعہ نکاح کے ہوتے ہیں،یعنی دوبارہ نیا مہر مقرر کریں اور دو گواہوں کی موجود گی میں ایجاب و قبول کرلیں۔

2۔صورت مسئولہ میں  جب بیوی دوبارہ نکاح پر راضی نہ ہو تو پھر سائل  کو چاہئے کہ وہ اس عورت سے علیحدہ رہے،وہ عورت اب سائل کے لئے نامحرم اور اجنبیہ ہے۔

البتہ اگر مجبوری ہو کہ بچے باپ کے بغیر نہ رہ سکتے ہوں  توا س  صورت میں اگر مطلقہ بیوی کو سائل کے ساتھ رہنے میں کوئی اعتراض نہ ہو اور   اس کا  گھراتنا بڑاہو کہ  اس میں سائل اور اس کی مطلقہ بیوی  اپنی  اولاد کے ساتھ پردہ کا خیال کرتے ہوئے  اجنبیوں کی طرح الگ الگ رہ  سکتے ہوں کہ  دونوں کے کمرے الگ ہوں، ان کا آمنا سامنا نہ ہواور کسی  گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو ،تو مذکورہ طریقہ سے وہ ایک مکان میں  اپنی اولاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

لیکن اگر  گھر اتنا بڑا نہ ہو ،  یا دونوں کے  گناہ میں مبتلا  ہوجانے کا اندیشہ ہو تو  پھر بالکل علیحدگی اختیار کرنا ہی  ضروری ہوگا،ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا؛اس لئے کہ وہ عورت اب سائل کے لئے نامحرم اور اجنبیہ ہے۔

باقی سائل اپنے بچوں سے مل سکتا ہے،سائل کی مطلقہ بیوی سائل کو بچوں سے ملنے سے منع نہیں کرسکتی ،نیز  بچوں  سے قریب رہنے کے لئے اگر سائل اپنی مطلقہ بیوی کے پڑوس میں کوئی گھر  لیتاہے ،تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".

 ( كتاب الطلاق، باب الرجعة، مطلب في العقد على المبانة 3/ 409 ط: سعيد)

فتاوی شامی  میں ہے:

"ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى.

وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.

(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك."

(كتاب الطلاق، باب  العدۃ، فصل في الحداد، 3 /538، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں