
میری بیوی نے عدالت میں اس بنیاد پرخلع کا کیس دائرکیا کہ میں اسے مارتاہوں اور نان و نفقہ نہیں دیتا، حالانکہ میں نے ایک دو مرتبہ اس کو ہلکا سا مارا تھا، اور نان و نفقہ میں کھانا پینا، رہائش تھی، علاج و معالجہ کا خرچہ بھی دیتا رہا، البتہ میں کچھ عرصہ مقروض ہو گیا تھا توجیب خرچ (5000) روپے کچھ عرصہ تقریبا چار پانچ ماہ نہیں دے سکاتھا۔تو وہ مجھے چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی، میں پھر بھی بچوں کی اسکول کی فیس اور علاج معالجہ کا خرچہ دیتا رہا، وہ مجھے جنوری 2025 کو چھوڑ کر گئی، اس کے بعد بھی یہ خرچہ جاری رہا، باربار بلانے پر بھی جب وہ گھر نہیں آئی تو میں نے خرچہ بند کردیا۔
بیوی کی طرف سے دائر کیا گیا یہ مقدمہ زیر سماعت تھا کہ میں نے عدالت میں ”ازدواجی حقوق کی واپسی“ کا کیس دائر کر دیا تھا۔میرے دائر کردہ کیس میں فیصلے والے دن بحث کے بعد جج نے آخر میں بیوی سے پوچھا: بی بی آپ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ تو بیوی نے کہا: نہیں، جج نے مجھ سے کہا: آپ مہر کی رقم لینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا: نہیں لینا چاہتا، جج کھڑی ہوئی اور باہر چلی گئیں، میں نے ان کے وکیل سے پوچھا: کیا ہوا؟ تو وکیل نے کہا: جج نے خلع جاری کر دی ہے، اس پر میں ہکا بکا رہ گیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعا یہ خلع واقع ہو گئی ہے؟ عدالت میں گواہوں کے ذریعہ نہ میرا مارنا ثابت کیا گیااور نہ خرچہ دینا ثابت کیا گیا، بس ویسے ہی فیصلہ ہوا، نہ میں نے جج کے سامنے اس فیصلے پر رضامندی کا اظہار کیااور نہ میں نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے۔
وضاحت: میں نے عدالت میں حقوق زوجیت کا کیس دووجہ سے دائر کیا تھا: 1- اگر میں دوسری شادی کروں تو دوسری شادی کرنے پر لڑکی والے مجھ پر کیس نہ کر دیں۔ 2- اگر عدالت میں ہم دونوں کی صلح ہو جاتی ہے تو بہت اچھی بات ہے،اور اگرعدالت میں صلح نہیں ہوتی تو وہ عدالت سے خلع لے لے میں اس پر راضی ہوں، لیکن میں خود طلاق نہیں دینا چاہتا۔ یہ بات میں نے بیوی کو نہیں کہی تھی البتہ جب کیس چل رہا تھاتو میں نے اپنے ایک دوست مفتی صاحب کو یہ بات بتائی تھی۔
عدالتی فیصلے پر میں ہکا بکا رہ گیا، میں نے مفتی صاحب سے رجوع کیا، میں جب یہاں پر فتوی لینے آیاتو انہوں نے کہا کہ خلع کے کاغذات لے کرآئیں تو میں کاغذات لینے گیا، وہاں پرانہوں نے کاغذات وصول کرنے کے لیے مجھ سے سائن لیے کہ آپ نے کاغذات وصول کر لیے ہیں۔
میں اس سےپہلے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے کر اس سے رجوع کر چکا ہوں۔
خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات کے درست ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی شرعاً ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع شرعا درست ہونےکے لیے بھی جانبین (زوجین)کی رضامندی ضروری ہے اور شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں عدالت نے یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کی ہے جیسا کہ سائل کے بیان سےاور منسلکہ کاغذات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے ،اورسائل نے نہ بیوی کو عدالت سے خلع لینے کا کہا تھا اور نہ ہی عدالتی فیصلے پرتحریری یا زبانی طور پررضامندی کا اظہار کیا، تو مذکورہ یک طرفہ عدالتی خلع شرعا ًمعتبر نہیں ہوا،دونوں میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے، اس یک طرفہ فیصلے سے نکاح ختم نہیں ہوا۔
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"لوكان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم يسئلهما النبي ﷺ عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله اخلعها بل كان يخلعها منه ويرد عليه حديقته وإن أبيا أو واحد منهما، كما كانت فرقة المتلاعنين إلى الحاكم لم يقل للملا عن خل سبيلها بل فرق بينهما."
(اختلاف السلف وفقهاء الأمصارفيما یحل أخذه بالخلع، ج: 2، ص: 95، ط: دار إحیاء التراث العربي)
بدائع الصنائع میں ہے :
"أما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."
(کتاب الطلاق،فصل في شرائط رکن الطلاق ، ج: 3، ص: 145 ، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101477
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن