بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عدالتی خلع لینے کے بعد دوبارہ طلاق لینے کی ضرورت ہے یا نہیں


سوال

تقریباً تین سال پہلے میری بہن کا نکاح ہوا تھا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی میاں بیوی والے تعلقات قائم ہوئے،  نکاح کے تقریباً آٹھ ماہ بعد  میری بہن نے صاف انکار کر دیا کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ازدواجی زندگی نہیں گزارنا چاہتی،   اس کے باوجود نکاح قائم رہا اور تین سال تک کوئی حل نہ نکل سکا۔

آخرکار ہم نے عدالت سے رجوع کر کے قانونی طور پر "خلع" لے لی،  خلع کے بعد اس لڑکے نے دوسری جگہ شادی بھی کر لی ،  اب ہم اپنی بہن کی دوسری جگہ شادی کروانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میری بہن کو دوبارہ اس لڑکے سے طلاق لینے کی ضرورت ہے، یا عدالت سے لیا گیا خلع ہی کافی ہے اور سابقہ نکاح ختم ہو چکا ہے؟

جواب

خلع کے شرعی طور پر معتبر ہونے کے لئے میاں بیوی دونوں کی باہمی رضامندی ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے زبانی یا تحریری طور پر خلع قبول کرلیا تھا ، یا خلع کے دستاویز پر سائن کئے تھے ، تو خلع واقع ہوگئی  ہے ، سائل کی بہن دوسری جگہ نکاح کرنے  میں  آزادہے ، دوبارہ اس لڑکے سے طلاق لینے کی  ضرورت  نہیں ۔

اور اگر خاوند کو خلع کے بارے معلوم ہی نہیں تھا ، یا خاوند نے  زبانی یا تحریری طور پر خلع قبول نہیں کیا تھا یا خلع پر راضی نہیں تھے ، تو سائل کی بہن کا دوسری جگہ نکاح کرنے کے لئے  ضروری ہے  کہ اس لڑکے سے  طلاق  لے ، طلاق لینے کے بعد اگر واقعی میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے، تو سائل کی بہن عدت گزارے بغیر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، بصورتِ دیگر (یعنی اگر ازدواجی تعلق  قائم ہو چکا ہو تو) طلاق کے بعد عدت گزارنا لازم ہوگی ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه ‌عقد ‌على ‌الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول، والحربية دخلت دارنا بأمان تركت زوجها في دار الحرب والأختان تزوجهما في عقد واحد فيفسخ بينهما والجمع بين أكثر من أربع نسوة فيفسخ بينهن كذا في التتارخانية ناقلا عن الخزانة. العدة بالنساء بالإجماع كذا في التمرتاشي."

(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج:1، ص:526، ط:رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں