
میری بیوی تقریبا چار مہینے پہلے اپنے میکے چلی گئی تھی، جاتے وقت وہ بالکل ٹھیک تھی، مگر وہاں جانے کے بعد اس نے عدالت میں خلع کے لیے درخواست دائر کر دی۔
جب کیس کی سماعت ہوئی تو جج نے مجھے اورمیری بیوی کو بلا کر صلح کروانے کی کوشش کی۔ جج نے مجھ سے پوچھا: آپ کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی بیوی کو چھوڑنا نہیں چاہتا، لیکن میری بیوی نے صاف انکار کر دیا کہ وہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اور اس کی وکیل بھی اس مؤقف پر قائم تھی۔
جب جج نےمیری بیوی سے پوچھاکہ آپ کے کیا مسائل ہیں؟ تو اس نے کہا: یہ مجھے باہر نہیں لے کر جاتے، ان کو مجھے باہر لے جاتے ہوئے شرم آتی ہے، یہ غصے کے تیز ہیں، بد تمیزی سے بات کرتے ہیں۔
ان ہی وجوہات کی بنیاد پر وہ خلع لینا چاہتی تھی، میری شادی کو چار سال ہو گئے ہیں،میں نے ان چار سالوں میں پورا نان و نفقہ دیا، بچوں اورگھر کی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، میں نے اپنی مرضی سے اپنی بیوی کو خلع نہیں دی، اورنہ میں نے خلع کے کاغذات پردستخط کیے اور نہ ہی میں عدالت کے فیصلے پر راضی ہوں۔
تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا شرعایہ خلع واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟
خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات کے درست ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی شرعاً ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع شرعا درست ہونےکے لیے بھی جانبین (زوجین)کی رضامندی ضروری ہے اور شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عدالتی فیصلہ کوشرعا خلع قرار نہیں دیا جاسکتا؛ کیونکہ خلع واقع ہونے کے لیے جانبین (میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے، جب کہ مذکورہ صورت میں شوہر کی رضامندی نہیں پائی جا رہی۔
نیز ایسے عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ تنسیخِ نکاح کے اسباب (جیسے شوہر کا نامرد ہونا، یا مجنون ہونا، یا مفقود [لاپتا] ہونا، یا متعنت [ظالم] ہونا کہ بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو اور ظلم و تشدد کرتا ہو) پائے جائیں، اور عورت ان اسباب کوشرعی گواہوں کے ذریعے عدالت میں ثابت بھی کرے، لہذا اگر بیوی ان اسباب کو شوہر میں شرعی گواہوں کے ذریعے ثابت کر دے تو عدالت کا فیصلہ شرعاً تنسیخِ نکاح ہوگا اور میاں بیوی میں جدائی واقع ہو جائے گی، اور اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
چونکہ صورتِ مسئولہ میں تنسیخ نکاح کا کوئی سبب نہیں پایا جا رہا،بلکہ شوہر کی بدتمیزی اور غصہ کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا گیا ہے، تو اس سقم کی وجہ سے اس فیصلے کو تنسیخِ نکاح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے، البتہ اگر شوہر عدالتی یک طرفہ خلع کو قبول کرتے ہوئے اس کی دستاویز پر دستخط کر دے تو پھر یہ شرعی خلع شمار ہو گا۔
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"لوكان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم يسئلهما النبي ﷺ عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله اخلعها بل كان يخلعها منه ويرد عليه حديقته وإن أبيا أو واحد منهما، كما كانت فرقة المتلاعنين إلى الحاكم لم يقل للملا عن خل سبيلها بل فرق بينهما."
(اختلاف السلف وفقهاء الأمصارفيما یحل أخذه بالخلع، ج: 2، ص: 95، ط: دار إحیاء التراث العربي)
مبسوط میں ہے:
"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، و للزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 6، ص: 173، ط: دارالمعرفة بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100433
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن