بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا خلع کا فیصلہ عدالت کی صواب دید پر چھوڑنے کے بعد خلع معتبر قرار پائے گا؟


سوال

عدالت کی طرف سے جو منسلکہ خلع نامہ جاری کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے شریعت کی رو سے خلع ہو گئی ہے یا نہیں؟ جب کہ شوہر نے جج کے بلوانے پر جج کے سامنے کہا تھا کہ میں اپنے طور پر تو طلاق نہیں دینا چاہتا، البتہ اگر آپ خلع کا فیصلہ کرنا چاہو تو کر دو، اس کے بعد جس دن خلع کا فیصلہ ہوا، تو شوہر نے لڑکی کا جہیز کا سارا سامان بھی  اپنے گھر سے نکلوا دیا، اور اپنی بچیاں بھی اپنے پاس رکھ لی تھیں، اور اس کی مہر کی رقم عدالت میں جمع کروا دی گئی تھی، بعد میں جب اس سے پوچھا کہ آپ نے اپنا مہر واپس لے لیا ہے، تو اس نے جواب دیا کہ میں یہ تین، چار ہزار روپے لینے کے لیے اب عدالت جاؤں گا کیا؟

نیز اگر خلع ہو چکا ہے تو عدت کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں منسلکہ خلع نامہ میں شوہر کی طرف سے عدالت میں داخل کرائے گئے بیان کا یہ جملہ  جبکہ خلع کا معاملہ احترام کے ساتھ   اس معزز عدالت کی صواب د ید پر چھوڑ دیا گیا “سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ شوہر نے خلع کا معاملہ عدالت کی صواب دید پر چھوڑدیا تھایعنی عدالت کو خلع دینے نہ دینے کا اختیار دے دیا تھا، لہذا جب عدالت نے خلع کا فیصلہ کیا تو شرعاً یہ خلع معتبر قرار پائے گا۔

اس وجہ سے منسلکہ کاغذات کی رو سے شرعاً خلع واقع ہو چکا ہے، نیز جس دن خلع کا فیصلہ ہوا تھا، اسی دن سے عدت بھی شروع ہو گئی تھی، لہذا عورت اپنی عدت مکمل تین ماہواریاں بشرط یہ کہ حاملہ نہ ہو، حمل کی صورت میں وضع حمل تک کا عرصہ گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"والخلع جائز عند السلطان وغیره لأنه عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وهو بمنزلة الطلاق بعوض."

 (باب الخلع،ج:6،ص: 173،ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده، وإما أن يقول اخلعي ولم يزد عليه فخلعت، فعند أبي يوسف لم يكن خلعا. وعن محمد تطلق بلا بدل، وبه أخذ كثير من المشايخ."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3، ص: 440، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101501

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں