
میری اہلیہ نے مجھ پر مارپیٹ اور خرچ نہ دینے کے الزامات لگا کر عدالت میں خلع کی درخواست دی، میں عدالت میں حاضر ہوا اور الزامات کی تردید کی، لیکن میری بات سنے بغیر عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کر دی، اس پر میں نے دارالعلوم میں فتویٰ جمع کرایا، وہاں سے جواب آیا کہ یہ خلع درست نہیں ہوا، بعد ازاں میرے سسر نے دارالعلوم کے ایک اور مفتی صاحب سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ جماعت المسلمین (مسلمانوں کی ایک جماعت) فیصلہ کرے گی، میں جماعت المسلمین (مسلمانوں کی ایک جماعت)کے سامنے حاضر ہوا، تو انہوں نے فسخِ نکاح کا فیصلہ سنایا، حالاں کہ جن گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ ہوا وہ ہمارے کسی بھی جھگڑے کے وقت موجود نہیں تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ درست ہے اور کیا اس سے ہمارا نکاح ختم ہو گیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی نے جو خلع عدالت کے ذریعے حاصل کیا ہے، وہ یک طرفہ ہونے کے باعث شرعی خلع قرار نہیں پاتا، اور نہ ہی اس فیصلے کو تنسیخِ نکاح قراردیا جا سکتا ہے، کیوں کہ تنسیخِ نکاح کی شرائط،(شرعی شہادتوں کے ذریعے مدعیہ کا اپنی مظلومیت کو عدالت کے سامنے ثابت کرنا وغیرہ)بھی اس میں نہیں پائی گئی ہے،اس لئے نکاح شرعاً برقرار ہے،باقی رہا یہ سوال کہ سائل کی بیوی نے جماعت المسلمین (مسلمانوں کی ایک جماعت)کے سامنے اپنا معاملہ پیش کر کے جو فسخِ نکاح کا فیصلہ حاصل کیا ہے، چوں کہ پاکستان میں شرعی قاضی کا قائم مقام یعنی مسلمان جج موجود ہے، اس لیے مسلمان جج کی اجازت کے بغیر کسی پنچایت کو یا جماعت المسلمین کو اس معاملے میں فیصلے کا شرعاً اختیار نہیں، لہٰذا مذکورہ پنچایت کا فیصلہ بھی شرعاً معتبر نہیں ہوگا۔
ایسی صورت میں جب سائل کی بیوی سائل کے ساتھ زندگی گزارنے پر کسی صورت میں آمادہ نہیں،لہٰذاسائل کومعاملہ لٹکائے رکھنے کے بجائے اخلاق اور دینی غیرت کا تقاضہ یہ ہے کہ ، بیوی کو طلاق یا خلع دے کر آزاد کر دے، کیوں کہ جب تک خوش اسلوبی سے گھر بس سکتا ہے تو اسے بسایا جائے، بصورتِ دیگر خوش اسلوبی سے علیحدگی مومن کی شان اوردین کا تقاضا ہے۔
جس طرح رشتہ قائم کرنے کے لیے باہمی رضامندی ضروری ہے، اسی طرح رشتہ کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مزاج کی موافقت ضروری ہے، مزاج میں موافقت نہ ہو تو شریعت میں خوش اسلوبی سے علیحدگی کا راستہ رکھا ہے، اورپھر اس علیحدگی میں طلاق کے علاوہ خلع کا راستہ بھی رکھا ہےکہ شوہر مہر یا دیگر وہ اشیاء بیوی کو دئے تھے، اس کے عوض خلع کرکے اپنے نقصان کا بھی ازالہ کر ے، لہٰذا جلدبازی مسئلہ کا حل نہیں۔
جیسا کہ قرآن شریف میں ہے:
اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۖ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ ؕوَلَا يَحِلُّ لَـکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّآ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡــئًا اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَآ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَ لَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖؕ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ۚ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ .البقرة :(229)
ترجمہ:وہ طلاق دو مرتبہ (کی) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ اور تمہارے لیے یہ بات حلال نہیں کہ (چھوڑنے کے وقت) کچھ بھی لو (گو) اس میں سے (سہی) جو تم نے ان کو (مہر میں) دیا تھا مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو قائم نہ کرسکیں گے سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں سو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔(بیان القرآن)
بخاری شریف میں ہے:
"حدثنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي: حدثنا قراد أبو نوح: حدثنا جرير بن حازم، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، إلا أني أخاف الكفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فتردين عليه حديقته). فقالت: نعم، فردت عليه، وأمره ففارقها."
(كتاب الطلاق،باب الخلع وكيف الطلاق فيه،ج:5،ص:2022،الرقم :4973،ط:دار ابن كثير)
ترجمہ:ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیسؓ کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسولَ اللہ! مجھے ثابت کے دین یا اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں، مگر مجھے ڈر ہے کہ میں ناشکری (کفرانِ نعمت) میں مبتلا نہ ہو جاؤں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا تم ان کا باغ واپس کرو گی؟"
اس نے کہا: "جی ہاں"، تو اس نے باغ واپس کر دیا، اور نبی ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ اسے طلاق دے دے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100996
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن